499

مصنوعی مٹھاس کا استعمال فالج کے خطرات 10 فی صد تک بڑھا سکتا ہے

مصنوعی مٹھاس کا استعمال فالج کے خطرات 10 فی صد تک بڑھا سکتا ہے

کراچی: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ مصنوعی مٹھاس کھانے سے فالج کے امکانات میں 10 فی صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

محققین نے تحقیق میں کھانوں میں ملائی جانے والی چینی کے خطرات کو واضح کیا گیا۔

محققین نے تحقیق میں 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد برطانیوں کا مطالعہ کیا اور ان کی صحت کو اوسطاً نو سالوں تک زیرِ نگرانی رکھا گیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو زیادہ مصنوعی مٹھاس کا استعمال کرتے تھے ان کے فالج یا اسکیمک قلبی مرض (قلبی مسائل کی ایک قسم) میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ تھے۔

برطانیہ میں اوسطاً ہر شخص روزانہ تقریباً 12 فی صد کیلوریز مصنوعی مٹھاس سے حاصل کرتا ہے۔ اگر کوئی اس مقدار میں پانچ فی صد تک اضافہ(روزانہ ایک اضافی چھوٹی چاکلیٹ بار کا کھایا جانا) کرتا ہے، تو تحقیق کے مطابق اس کے فالج میں مبتلا ہونے کے امکانات 10 فی صد تک بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس اضافی کھپت کا تعلق اسکیمک قلبی مرض میں مبتلا ہونے کے 6 فی صد اضافی امکانات سے بھی تھا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ٹِم کے کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ عام طور پر مصنوعی مٹھاس کے استعمال کا تعلق قلبی مرض کے خطرات میں اضافے سے ہے۔

بی ایم سی میڈیسن جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں درمیانی عمر کے افراد سے 24 گھنٹے کے دورانیے میں ان سے کھانے اور پینے کی اشیاء کے استعمال کے متعلق پوچھا گیا۔ بشکریہ ایکسپریس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں