542

بچوں کو مونگ پھلی کی الرجی سے بچانے کے لیے طریقہ کار وضع

لندن: ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کوچار ماہ کی عمر سے ہی مونگ پھیلی سے بنی غذائی اشیاء کھلانا شروع کردینی چاہیئے تاکہ ان کو کسی بھی قسم کی الرجی میں مبتلا ہونے سے بچایا جاسکے۔

حالیہ دہائیوں میں لوگوں کو مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی کی شکایات میں تین گُنا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ شدید نوعیت کے معاملات میں اموات بھی پیش آسکتی ہیں۔

اس وقت ہر 50 میں سے ایک بچہ اس مسئلے کا شکار ہے جو زندگی بھر کے لیے کھانے میں موجود اجزاءکے حوالے سے ایک قابلِ فکر بات ہے۔ لیکن برطانیہ میں محققین نے ایک طریقہ دریافت کیا ہے جس سے بچوں کو اس مسئلے سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔
محققین کے مطابق بچوں کو مونگ پھلی سے بنی اشیاء کھلانا شروع کرنے کا سب سے اچھا وقت چار سے چھ ماہ کی عمر کے دوران ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے بچوں کے الرجی میں مبتلا ہونے کے امکانات 77 فی صد تک کم ہوسکتے ہیں۔

کنگز کالج لندن اور یونیورسٹی آف ساؤتھیمپٹن کے محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ بچے کے ایک سال کے ہونے تک مونگ پھلی سے ہونے والی زیادہ تر الرجیز پنپ چکی ہوتی ہیں۔

اس تحقیق میں محققین نے انکوائرنگ اباؤٹ ٹولرینس (EAT) اور لرننگ ارلی اباؤٹ پِینٹ الرجی (LEAP) مطالعوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا مطالعہ کیا۔

لِیپ مطالعے میں 640 ایسے بچے شامل تھے جن کے مونگ پھلی کی الرجی میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ مطالعے میں ان کو ابتدائی عمر میں ہی مونگ پھلی سے بنی اشیاء کے کھلائے جانے کا تجزیہ کیا گیا۔

اِیٹ پروجیکٹ میں برطانیہ اور ویلز کے 1 ہزار 300 سے زائد تین ماہ کے بچوں کا انتخاب کیا گیا۔ تحقیق میں ان کو کئی سالوں تک زیرِ نگرانی رکھا گیا تاکہ ابتدائی عمر میں الرجی کرنے والی غذائیں یعنی دودھ، مونگ پھلی، تِل، مچھلی، انڈا اور گندم کھلا کر ان کا مطالعہ کیا جاسکے۔بشکریہ (ایکسپریس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں