35

ترکی کو دھمکیاں دینے کے بعد ٹرمپ کا یوٹرن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے کے بعد یوٹرن لے لیا۔

گزشتہ دنوں شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے ترکی کے فیصلے کے بعد امریکا نے اپنی فوجیں شام ترک سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانےکا اعلان کیا تھا جس پر کُرد ملیشیا نے امریکا پر ’پیٹ میں چھرا گھونپنے‘ کا الزام عائد کیاتھا۔

اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ترکی کو معیشت تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں تھیں۔

امریکی صدر نے کہا تھاکہ شام میں ترکی نے حد سے بڑھ کر کچھ کیا تو ترکی کی معیشت کو تباہ کردیں گے جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔

اِن دھمکیوں کے چند گھنٹوں کے بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا  اور ترک صدر کو امریکا کے دورے کی دعوت بھی دے دی۔

امریکی صدر کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ترکی امریکا کا بڑا تجارتی ساتھی ہے، ترکی ہمارے ایف 35 فائٹر جیٹ کے لیے  اسٹیل کا ڈھانچہ تیار کرتا ہے اور ترکی سے معاملات طے کرنے کا تجربہ اچھا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی نے شامی صوبے ادلب میں بہت سی جانیں بچانے میں میری مدد کی، میری درخواست پر ترکی نے پاسٹر برنسن کو اچھی صحت کے ساتھ قید سے رہا کیا جب کہ ترکی نیٹو کا اہم اور فعال رکن ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ترک صدر 13 نومبر کو امریکا بطور ان کے مہمان آئیں گے۔

خیال رہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے  شام میں کُردوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترک فوج تیارہے،کُرد ملیشیا کیخلاف کسی بھی لمحےآپریشن شروع ہوسکتا ہے۔

کُرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کےلیے سرگرم ہے۔ عراق میں کُردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کُردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کُردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جب کہ ترکی کُرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

2014 میں امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی مرتبہ داعش کے خلاف شام میں فضائی آپریشن شروع کیا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر شامی خانہ جنگی میں باضابطہ طور پر حصہ لیا۔

امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑنے کے لیے شامی کُردش ملیشیا اور جنگجوؤں کو تربیت دیتے رہے ہیں۔

20 دسمبر 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں