114

نواز شریف کی بیماری اور سیاسی ڈیڈ لاک

پاکستان میں سیاسی بحران ختم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس عمل کی وجہ سے ملک کی داخلی سلامتی اور معاشی و سیاسی استحکام کی منزل قریب آنے کی بجائے دور ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان کے سابق اور نا اہل ہونے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیماری کا معاملہ اہم ہوگیا ہے اگرچہ حکومت نے تاثر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کی بیماری کی صورت میں باہر

جانے پر کوئی اعتراض نہیں کریگی لیکن یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ نواز شریف اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان کو ئی خفیہ ڈیل ہوئی ہے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نواز شریف کی حمایت میں اگر کوئی فیصلہ کیا جائیگا تو اس کی بنیاد سیاسی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہوگا ۔ شریف خاندان یا مسلم لیگ ( ن) کے مطابق اگر ہم نے ڈیل کرنی ہی تھی تو نواز شریف مشکل حالات میں ملک میں واپس کیوں آتے ۔

پاکستان کے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کیلئے 7 ارب کا شورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا۔

حکومتی فیصلے پرمیاں نواز شریف کے صاحبزادے نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئےحکومتی فیصلے کو گھٹیا سیاست کی بدترین مثال قرار دیدیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں حسین نواز کا کہنا تھا کہ ‏کیا امراض دل، گردہ، پلیٹ لیٹس اور سٹروک کا خطرہ رکھنے والے مریض کا علاج ایک ماہ میں ختم ہو سکتا ہے؟

واضح رہے کہ نواز شریف کی بیماری کا معاملہ اہم ہوگیا ہے اگرچہ حکومت نے تاثر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کی بیماری کی صورت میں باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں کریگی لیکن یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ نواز شریف او ر اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کو ئی خفیہ ڈیل ہوئی ہے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نواز شریف کی حمایت میں اگر کوئی فیصلہ کیا جائیگا تو اس کی بنیاد سیاسی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہوگا ۔ شریف خاندان یا مسلم لیگ ( ن) کے مطابق اگر ہم نے ڈیل کرنی ہی تھی تو نواز شریف مشکل حالات میں ملک میں واپس کیوں آتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں