564

دنیا کو ممکنہ طور پر تبدیل کرنے والا نیا میٹریل تیار

روچیسٹر، نیو یارک: سائنس دانوں نے ایک نیا مٹیریل بنایا ہے جو دنیا کو ممکنہ طور پر یکسر تبدیل کرنے صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا سُپر کنڈکٹنگ مٹیریل بنایا ہے جو کم درجہ حرارت اور دباؤ میں مؤثر انداز میں کام کرکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک صدی سے زیادہ کے عرصے تک کوششوں میں لگے رہنے کے بعد بالآخر سائنس دان ایسا مٹیریل بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں سے بجلی بغیر کسی مزاحمت کے گزر سکتی ہے اور یہ مٹیریل اپنے اطراف میں مقناطیسی میدان بھی بنا لیتا ہے۔
اس ایجاد کے بعد ممکنہ طور پر پاور گرڈز سے بغیر کسی رکاوٹ کے توانائی کی فراہمی کی جاسکے گی جس سے مزاحمت کے نتیجے میں ضائع ہونے والی 20 کروڑ میگا واٹ آورز بچلی بچائی جا سکے گی۔

یہ مٹیریل نیوکلیئر فیژن کے عمل میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں وسیع مقدار میں بجلی بنائی جاسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مادے کے دیگر استعمال میں تیز رفتار معلق ٹرینیں اور نئے اقسام کے طبی آلات شامل ہوسکتے ہیں۔

ںیو یارک کی یونیورسٹی آف روچیسٹر کے رینگا ڈیاز کی سربراہی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے اس سپر کنڈکٹنگ مادے کو بنایا ہے۔ یہ وہی ٹیم ہے جس نے اس سے قبل نیچر اور فزیکل ریویو لیٹرزمیں شائع ہونے والے مقالے میں اس مادے سے دو کم تر سپر کنڈکٹنگ مٹیریل بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم سائنس دانوں کے اندازِ فکر پر اٹھائے جانے والے سوالات کے نتیجے میں نیچر کے ایڈیٹر نے ان کا مقالہ واپس لے لیا تھا۔

اس بار پروفیسر ڈیاز اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ہونے والی تنقید سے بچنے کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے ہیں۔

سائنس دانوں نے اس مادے کی عرفیت ’ریڈ میٹر‘ رکھی ہے۔ بشکریہ (ایکسپریس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں