244

ملک میں کورونا وائرس کے 39 ہزار 642 مصدقہ مریض، 31 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 31 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 14 ہزار 878 ٹیسٹ کیے گئے۔ اس طرح ملک بھر میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 59 ہزار 264 کورونا ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 10 ہزار 880 مریضوں نے اپنے طاقتور مدافعتی نظام کی بدولت اس وائرس کو شکست دے دی ہے۔

کہاں کتنے مریض؟

مزید مریض سامنے آنے کے بعد تاحال پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 39 ہزار 642 ہوگئی ہے۔ ان میں سے سندھ میں 15 ہزار 590، پنجاب میں 14 ہزار 201، خیبرپختون خوا میں 5 ہزار 847، بلوچستان میں 2 ہزار457، آزاد کشمیر میں 108، اسلام آباد میں 921 اور گلگت بلتستان میں 518 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

جانی نقصان کی تفصیل

ملک بھر میں کورونا وائرس نے مزید زندگیوں کے چراغ گل کردیئے جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے سبب 861 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ 291 اموات ہوئیں جب کہ سندھ میں 255، پنجاب میں 245، بلوچستان میں 31، اسلام آباد میں 7 ، گلگت بلتستان میں 4 جب کہ آزاد کشمیر میں ایک فرد جان کی بازی ہار چکا ہے۔ علاوہ ازیں 188 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل

کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے جو 18 مئی کو سماعت کرے گا۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں