ٹوکیو: جاپان کی جانب سے نظامِ شمسی کے چار ارب 60 کروڑ سال قدیم شہابیے پر اتر کر وہاں سے مٹی کے نمونے لے کر ’ہایابوسا دوم‘ نامی خلائی جہاز زمین پر کامیابی سے اترگیا ہے۔
جاپانی وقت کے مطابق صبح کے ڈھائی بجے ، ہایابوساٹو آسٹریلیا کے ایک ویران ریگستان میں اترا۔ اس دوران ایک کیپسول زمینی فضا میں کسی روشن شہابئے کی طرح داخل ہوا اور اپنے پیراشوٹ کھول کر آسٹریلیا میں اترا۔ جاپانی خلائی ایجنسی کے مطابق ہایابوسا ٹو ایک دوسرے مشن پر روانہ ہوگیا ہے اور یہ کیپسول سوادولاکھ کلومیٹردور ایک شہابئے سے مٹی لے کر زمیں تک پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ اس پورے منصوبے پر 15 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے جبکہ زمین پر 0.1 گرام مٹی ہی پہنچی ہے۔
آسٹریلیا میں موجود جاپانی ٹیم نے کیپسول اترنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے اپنے قبضے میں لے لیا اور تصدیق کی کہ اس میں مٹی کے نمونہ موجود ہے۔ چونکہ یہ شہابیہ خود بہت قدیم ہے اسی لیے اس کی مٹی پر تحقیق کرکے ہم نظامِ شمسی کی پیدائش اور ارتقا کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے۔ کئی برس تک جاپانی تجربہ گاہوں میں اس پر تحقیق ہوتی رہے گی اور نئے انکشافات ہوں گے۔
رائیگو پر اترتے ہی ہایابوسا ٹو نے سیارچے پر ٹائٹانیئم دھات سے بنی 5 گرام وزنی گولی فائرکی اور اس سے اڑنے والی مٹی اور ذرات کو جمع کرلیا۔ اس کے بعد ہایاباسو ٹو نے سیارچے کو خیرباد کہا اور وہاں سے دور ہوگیا۔ اپنے پورے سفر میں خلائی جہاز نے 5 ارب کلومیٹر کا سفر طے کیا اور الیکٹرک آئن تھرسٹر کا استعمال بھی کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس پر غیرمعمولی لاگت آئی ہے۔
لیکن ہایوبوساٹو کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اسے مزید دو سیارچوں پر جانا ہے جن میں سے پہلے وہ جولائی 2026 میں 2001 CC21 پر پہنچے گا۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز

