Skip to content
Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • آج کا اخبار
  • گلگت بلتستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و صحت
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کھیل و ثقافت
  • ویڈیوز
  • کالمز/ اداریہ
  • آج کے کالمز/ اداریہ

آخر کب تماشا ختم ہوگا؟

Daily Rehbar دسمبر 28, 2019 1 minute read
daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan

daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan

حالیہ سیاست سے بیزاری اپنی جگہ مگر اس کھیل سے اپنی ازلی محبت بھی حقیقت ہے۔

آج کل کے حالات مگر سمجھ سے باہر ہیں۔ ملکی حالات میں بہتری تو خیر کیسے ہوگی، اس کی فی الحال کوئی امید بھی نہیں، مگر اس قدر تیزی سے تنزلی کا سفر کبھی دیکھا نہ تھا۔

 

ابھی معاشرہ ناکام پولیس ریفارمز، معیشت کی ابتری، پارلیمان کی ناکامی اور انتقامی احتساب کی تاب لا ہی رہا تھا کہ کوالالمپور سمٹ نامی ایک اور ناکامی نونہالان انقلاب کا راستہ ناپے کھڑی تھی۔ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ یہاں بھی جس ڈھٹائی سے نالائقی کا ڈھول بین الاقوامی سطح پر بجایا گیا، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

یوں کہیے کہ ’سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر‘ نے وزیرِاعظم پاکستان کو ملائیشیا کا دورہ کرنے سے روک دیا۔ کیوں کہ ملائیشیا میں نیا اسلامی بلاک بنانے اور اس میں ایران کی شمولیت اور سعودیہ کی بے دخلی کی بات چل رہی تھی۔ ہماری معیشت چونکہ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم مشکل وقت میں ڈالر اور تیل فراہم کرنے والے اپنے ’دوست ملک‘ کی نافرمانی کرسکیں۔ لہٰذا ہم نے مہاتیر کو فون کرکے اپنی بے بسی کا اظہار کردیا۔ جس کا پول ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنی میڈیا سے گفتگو میں کھول دیا۔ وہ ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ سعودیہ پاکستان پر دباؤ ڈالتا ہے۔ پاکستان کو اس سمٹ میں شرکت نہ کرنے کےلیے دھمکیاں دی گئیں، جس میں ستائیس لاکھ پاکستانیوں کی سعودیہ سے بے دخلی

اور تیل کی فراہمی روکنا شامل تھا۔

فارن آفس سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو فارن پالیسی کے لحاظ سے عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنے پر فارن آفس کو ذمے دار ٹھہرانا غلط ہے۔ کیوں کہ فارن آفس نے اس سمٹ کے پیشِ نظر جو سفارشات مرتب کی تھیں، انہیں وزیرِاعظم آفس کی جانب سے یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم نے فارن آفس کو اعتماد میں لیے بغیر ہی اس سمٹ میں شرکت کی یقین دہانی کرادی، اور اس بات پر دھیان نہ دیا کہ اس سمٹ کے جو ٹارگٹس ہیں اْن کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور ان کے حامی ممالک سے ردِعمل آئے گا۔ فارن آفس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیرِاعظم کو اس سمٹ کے حوالے سے ابتدا میں ہی ایک لائن نہیں لینی چاہیے تھی، ایک موقف نہیں اپنانا چاہیے تھا۔ بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرکے نہایت محتاط قدم اٹھانا چاہیے تھا تاکہ ہم ایک بہتر پوزیشن پر ایک مثبت انداز سے اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرتے۔

کرپٹ قیادت کے ہاتھوں ملک کی بدحالی پر خان صاحب کہتے تھے کہ جب ان کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ہوگی تو ترقی کا سفر طے ہوگا۔ کیوں کہ ساری گیم ہی بے ایمانی کی ہے۔ اب مگر ان کی ایمانداری کے باوجود ارض پاک پر چھائے بے یقینی کے بادلوں کا جواب یہ ملتا ہے کہ تحریک انصاف کی ایماندار حکومت اس لیے ناکام ہے کیوں کہ ماضی کی حکومتیں کرپٹ تھیں۔ بس یوں سمجھیے کہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا معاملہ ہو، تو نالائقی، مشرف کی سزا کا معاملہ ہو، تو کم علمی، سفارت کاری کا محاذ ہو، تو کم عقلی، معیشت کا باب ہو، تو جلد بازی۔ آخر کو عوام کے پاس بھی رونے کو آنسو ختم ہورہے ہیں۔ معاملات اگر ایسے ہی چلتے رہے، تو بہت کچھ چلنا بند ہوجائے گا۔

وقت کے ساتھ ہمارے خان صاحب بھی اس نظام کو پیارے ہوگئے۔ وہ جس نظام کو بدلنے کا مصمم ارادہ لے کر آئے تھے، اسی نظام کے ہاتھوں پارٹی کو تار تار کر بیٹھے۔ ہمارے کسی قسم کی کرپشن نہ برداشت کرنے والے خان صاحب اپنی بی آر ٹی کی تحقیقات پر ہونٹ سیے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ پشاور ہائی کورٹ کا ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کے حکم پر بھی کے پی کے حکومت سپریم کورٹ چلی گئی، تاکہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرانے سے روکا جائے۔ مگر خان صاحب کی شفافیت کے دعوے دور کہیں خاموش رہے۔ ہاں مگر سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بلا کر یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کا نظام دیکھیں جہاں کسی کی اتنی جرأت نہیں ہوتی ہے کہ محمد بن سلمان کی حکومت کے خلاف کوئی بات بھی کرسکے۔ انہیں یہ کہہ کر یہاں کے میڈیا پر زور دینے کو کہا جاتا ہے جہاں ’’سارا سارا دن میری حکومت کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں‘‘۔

بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کا علم تھامنے والے اور اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے والے خان صاحب پھر اسی بشیر میمن کو خواجہ آصف کی گرفتاری کا آرڈر دیتے ہیں کہ اس شخص پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے کہ یہ کیسے پاکستان کا وزیرِ خارجہ ہوکر دبئی کا اقامہ لے کر نوکری کررہا تھا۔ حکم کی تعمیل نہ ہونے پر اسی بشیر میمن کو نوکری سے برخاست کرکے واجد ضیاء کو لاکر بٹھا دیا جاتا ہے۔

آج کل یوں کہیے کہ مین اسٹریم میڈیا پر چلنے والی خبروں سے بیزاری کے بعد وقت گزاری کےلیے سوشل میڈیا کا رخ کرنا پڑتا ہے، مگر وہاں بھی عجب تماشا برپا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیروزگار نوجوانوں کی قلیل تنخواہوں پر ایک ایسی گالم گلوچ بریگیڈ بھرتی کی گئی ہے جسے جب چاہا اور جس پر چاہا آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھوں مخالفین کو غداری، ملک دشمنی اور لفافہ خوری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں۔ تضحیک اور توہین کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی کبھار تو کپتان صاحب سے ان کو الٹا لٹکانے کے فرمائشی پروگرام کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ آئے روز وقت گزاری کےلیے کوئی نہ کوئی پھلجڑی چھوڑی جاتی ہے۔ کبھی خان صاحب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اعلان کردیا جاتا ہے تو کبھی گیس اور بجلی کے بحران کا نوٹس خان صاحب کے نام سے منسوب کرکے ترسے ہوئے عوام کے جذبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کبھی بیرونِ ملک اربوں ڈالر کی رقوم کی خیالی واپسی پر شادیانے بجائے جاتے ہیں، تو کبھی اسلامی صدارتی نظام لاکر خان صاحب کو خلیفہ وقت نامزد کردیا جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ سوال یہ کہ آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر کب تک یہ ملک شخصیات کے سحر میں جکڑا رہے گا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کب تک ہمارا قومی مفاد ’ناگزیر‘ شخصیات کی ’نااہلی‘ کی بھینٹ چڑھے گا؟ کب تک ہم اگلے ماہ، اگلے سال اور اگلے انتخابات کے مدار میں تیرتے رہیں گے؟ کب تک یہ ملک محض وعدوں اور دعووں کے حصار میں قید رہے گا؟ یہ بھی ایک سوال ہے کہ اس نظام کا حاصل کیا ہے اور یہ کہ پردہ کب گرے گا، کب تماشا ختم ہوگا؟ میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا؟

نوٹ: روزنامہ رھبر  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ dailyrehbargb@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

 

واصب امداد

واصب امداد

بلاگر میڈیا کے طالب علم ہونے کے ساتھ ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں۔ ملکی سیاست اور انٹرنیشنل افیئرز میں دلچسپی کے ساتھ لکھنے کا بھی شوق ہے۔ ان سے ٹویٹر آئی

ڈی wasib25@ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

About The Author

Daily Rehbar

See author's posts

Post navigation

Previous: روس نے آواز کی رفتار سے 27 گنا تیز میزائل نصب کردیے
Next: جس نے کرپشن کی وہ سزا بھگتے گا، احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، وزیراعظم

Related Stories

20_091807_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

27؍ اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
download (3)
  • آج کے کالمز/ اداریہ

*گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے اعلانات *”

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
28_104458_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘ حسن نثار

Daily Rehbar اکتوبر 24, 2024

Connect with Us

Social menu is not set. You need to create menu and assign it to Social Menu on Menu Settings.

Trending News

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ news-reporter-breaking-بریکنگ-portrait-1775740910027 1
  • اہم خبریں
  • پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ

Daily Rehbar اپریل 9, 2026
سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 2
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 3
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 4
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان

Daily Rehbar مارچ 31, 2026
مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 5
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید

Daily Rehbar مارچ 30, 2026
Copyright © 2026 All rights reserved. | Daily Rehbar by North Soft.