جلال آباد میں علماء امامیہ حلقہ 3 کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں علاقائی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے اعلامیے میں 5 اکتوبر کے ناخوشگوار واقعے کے بعد مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر اور مقامی انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔
علماء نے ٹک ٹاک پر قائد ملت اسلامیہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی کی شان میں گستاخی کو اشتعال انگیز اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ملوث عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں اسلحے کی کھلے عام نمائش اور بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یکطرفہ اقدامات عوامی اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ علماء نے واضح کیا کہ خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، تمام ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کریں اور حلقہ 3 میں خوف و ہراس پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
