Skip to content
Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • آج کا اخبار
  • گلگت بلتستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و صحت
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کھیل و ثقافت
  • ویڈیوز
  • کالمز/ اداریہ
  • آج کے کالمز/ اداریہ

مر کر بھی چین نہ پایا

Daily Rehbar ستمبر 19, 2019 (Last updated: ستمبر 19, 2019) 1 minute read
markarbhichain

انسداد خودکشی کے عالمی دن، یعنی 10 ستمبر کو عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی کہ دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرلیتا ہے اور اس رپورٹ میں خطرناک بات یہ بتائی گئی کہ ہر سال اس وجہ سے کسی جنگ کے مقابلے میں زیادہ لوگ مرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

یہ اعدادوشمار دیکھنے کے بعد پہلی سوچ یہی آتی ہے کہ انسانوں کو اس دنیا سے ختم کرنے کےلیے کسی جنگ کی کیا ضرورت؟ جب خود انسان ہی اپنے لیے کافی ہے۔ انسان اس دنیا میں جینے کےلیے آیا ہے۔ اس زندگی کو گزارنے اور اس کو بہتر بنانے کےلیے انسان کیا جتن نہیں کرتا۔ لاکھ ٹھوکریں کھاتا ہے مگر پھر بھی سنبھل جاتا ہے۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ پیار انسان کو اپنی زندگی سے ہوتا ہے، کیونکہ حقیقت میں اس زندگی کی ہی وجہ سے انسان کا ناتا اس دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ زندگی حقیقت میں کچھ بھی نہیں، صرف اور صرف سانس چلنے کی گیم ہے۔ اسی سانس کی ہی وجہ سے ہمارے خواب، خواہشیں، رشتے سب زندہ رہتے ہیں۔ تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ انسان جو خود اپنی زندگی سے اتنی محبت کرتا ہے پھر ایسا کیا ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کرلیتا ہے؟

یہ سوچ بہت عام ہے کہ مر کر انسان تمام غموں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ بظاہر تو یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ واقعی انسان آزاد ہوجاتا ہے۔ مگر وہ پیچھے اپنے رشتوں کےلیے کچھ ایسے غم چھوڑ جاتا ہے کہ وقت بھی ان دکھوں پر مرہم رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ اور کچھ ایسے سوالات بھی چھوڑ جاتا ہے جن کے جواب کبھی نہیں ملتے۔

انسان زند گی کو بہتر طریقے سے سمجھ ہی نہیں پایا کہ زندگی ہے کیا؟ یہ آسان اور ہمارے مطابق نہیں ہے۔ انسان اصل میں زندگی کو آسان بنانے کے چکر میں لگا رہتا ہے اور جب اس میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات زندگی ہماری سوچ کے مطابق ہوجاتی ہے اور بعض اوقات امید سے بھی زیادہ خلاف۔ لیکن یہ آسان نہیں ہوتی۔

اس بارے میں تو قرآن میں بھی ہے کہ ’’بے شک زندگی تھکا دینے والی چیز ہے‘‘۔ اور یہ انسان کو اتنا تھکا دیتی ہے کہ انسان اس کو ختم کرنے پر آجاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ چونکہ سارے مسئلے اس زندگی سے ہی منسلک ہیں، تو نہ یہ رہے گی اور نہ ہی مسائل، تو اس کا خاتمہ کردینا ہی بہتر ہے۔ انسان کی منفی سوچیں اُس پر اتنا حاوی ہوجاتی ہیں کہ وہ اس بات کو بھی بھول جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آیا، یہ قدرت کی طرف سے فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح وہ اپنی مرضی سے اس دنیا سے جا بھی نہیں سکتا۔ یہ فیصلہ بھی قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اس کی مشکلات اس کےلیے زندگی کا سفر مزید مشکل بنادیتی ہیں، اسے موت کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر ہی نہیں آتا۔ مگر اس کا یہ فیصلہ کچھ سوالوں کو جنم دے دیتا ہے۔

کیا موت کا فیصلہ انسان اپنے ہاتھ میں لے کر قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنا چاہتا ہے؟ کیا ایک کمزور اور ناتواں انسان کے ہاتھ میں یہ طاقت ہوسکتی ہے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ خود کرسکے؟ اس لیے بڑی حیرت ہوتی ہے جب لوگ مرنے کی دعا کرتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ موت کی دعا کیوں کی جاتی ہے؟ جبکہ وہ تو اٹل ہے۔ بلکہ موت تو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ چونکہ زندگی ایک تھکا دینے والی چیز ہے۔ مشکلات کبھی قدرت کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا کے طور پر یا پھر ہمارے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہماری زند گی میں آتی ہیں۔ مگر ایسی کوئی مشکل نہیں جس کا کوئی حل نہ ہو۔ بس انسان کو خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے تو قرآن میں ایک جگہ فرمایا گیا کہ ’’بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے‘‘۔

اگر انسان کامل یقین رکھے تو مشکلات آسان ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ یہ کامل یقین ہونا چاہیے کہ ہر سیاہ رات کا اختتام خوبصورت سی صبح سے ہوتا ہے۔ اسی طرح جیسے مشکلات آتی ہیں تو اللہ کچھ خوشیوں، کامیابیوں سے بھی تو انسان کو نوازتا ہے، تاکہ وہ بہتر طریقے سے زندگی گزار سکے۔ اسلام سمیت کوئی بھی مذہب خودکشی جیسے قبیح و حرام فعل کی اجازت نہیں دیتا۔

انسان ایک طرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی کرتا جارہا ہے، تو دوسری طرف وہ سماجی اعتبار سے تنہائی کا شکار ہورہا ہے۔ اسی سماجی تنہائی کی بدولت ہی ’’ذہنی صحت‘‘ ایک ایسی بیماری بن چکی ہے جو انسان کو اعصابی اور ذہنی طور پر اتنا کمزور کردیتی ہے کہ انسان اپنی زندگی تک کا خاتمہ کرلیتا ہے۔ پاکستان میں بھی 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں، جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے 3 کروڑ ہے۔ انسان ڈپریشن اور شیزوفرینیا جیسے امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں 2001 میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس جاری کیا گیا، لیکن آج تک اس آرڈیننس کو درست طریقے سے نافذ نہیں کیا گیا۔ نہ ہی عوام کو اس سے متعلق شعور دیا گیا۔ بطور معاشرہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر ہمارے پاس کسی کو بھی سننے کا وقت نہیں ہے۔ بلکہ کسی کی خودکشی پر اس بات پر تبصرہ کرنے کا وقت ضرور ہوتا ہے کہ آیا یہ انسان جنت میں جائے گا یا دوزخ میں؟ جنت اور دوزخ کا معاملہ تو رب ہی بہتر سمجھتا ہے۔ ہم انسان ہیں اور ہمیں انسان بن کر ہی کسی دوسرے کی مشکلات کو دور کرنا چاہیے۔ انسان کا پیسہ چلا جائے تو واپس آجاتا ہے، اگر کوئی رشتہ ٹوٹ جائے تو جڑ سکتا ہے، مگر یہ زندگی چلی گئی تو واپس نہیں آتی۔

زندگی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مشکلات ضرور آتی ہیں لیکن اچھا وقت بھی ضرور آتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رویوں سے دوسروں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں، تاکہ مشکل میں کسی کی مدد کرسکیں۔

نوٹ: روزنامہ رہبر گلگت بلتستان اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ
rahbargb@gmail.comپر ای میل کردیجیے۔

تحریر : ندا ڈھلوں

About The Author

Daily Rehbar

See author's posts

Post navigation

Previous: امریکا یا سعودی حملے کی صورت میں کھلی جنگ ہوگی: ایرانی وزیرخارجہ
Next: مہمند میں بارودی سرنگ دھماکے میں پاک فوج کے میجر اور سپاہی شہید

Related Stories

20_091807_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

27؍ اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
download (3)
  • آج کے کالمز/ اداریہ

*گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے اعلانات *”

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
28_104458_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘ حسن نثار

Daily Rehbar اکتوبر 24, 2024

Connect with Us

Social menu is not set. You need to create menu and assign it to Social Menu on Menu Settings.

Trending News

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ news-reporter-breaking-بریکنگ-portrait-1775740910027 1
  • اہم خبریں
  • پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ

Daily Rehbar اپریل 9, 2026
سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 2
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 3
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 4
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان

Daily Rehbar مارچ 31, 2026
مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 5
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید

Daily Rehbar مارچ 30, 2026
Copyright © 2026 All rights reserved. | Daily Rehbar by North Soft.