Skip to content
Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • آج کا اخبار
  • گلگت بلتستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و صحت
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کھیل و ثقافت
  • ویڈیوز
  • کالمز/ اداریہ
  • آج کے کالمز/ اداریہ

قطر ڈیل۔ کون جیتا، کون ہارا؟ تحریر.. سلیم صافی

Daily Rehbar مارچ 4, 2020
saleem safi

کیا افغانستان میں امن آگیا اور اس امن سے پاکستان بھی مستفید ہونے لگا؟ نہیں۔ کیا افغانستان میں نائن الیون کے بعد بےگناہ شہید ہونے والے افغان یا پھر پاکستان میں ستر ہزار کے قریب شہید ہونے والے بےگناہ پاکستانی دنیا میں واپس آگئے؟ نہیں۔

اچھا تو کیا امریکہ افغانستان سے اسی طرح مکمل نکل گیا جس طرح کہ سوویت یونین نکل گیا تھا اور یہاں سے نکلنے کے بعد امریکہ کے اسی طرح ٹکڑے ہو گئے جس طرح کہ سوویت یونین کے ہو گئے تھے؟ نہیں۔ تو پھر یہ پاکستان کے مذہبی سیاستدان اور دانشور کس جیت کا جشن منا رہے ہیں؟

قطر ڈیل کے بعد ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ جیسے مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ انیس سال تورا بورا کے محاذ پر جنگ کی قیادت کرتے ہوئے گزارے، جیسے طالبان نے یہ جنگ ملا عمر، ملا اختر منصور اور ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نہیں بلکہ سراج الحق صاحب کی قیادت میں لڑی اور جیسے جنرل حمید گل مرحوم پنڈی میں نہیں بلکہ قندھار میں طالبان کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور مولانا سمیع الحق مرحوم جلال آباد کے محاذ پر امریکی افواج کے خلاف فدائی حملہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ حیرت کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمیں بھی طالبان کے فوٹیجز کے ساتھ فتح کے ترانے بنا کر جشن منارہی ہیں حالانکہ جماعت اسلامی نے زیادہ جشن گلبدین حکمتیار اور برہان الدین ربانی کی فتح پر منایا تھا اور یہ طالبان امریکہ یا روس کو تباہ کرنے نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے ان پیارے مجاہدین سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے میدان میں آئے تھے۔

ہم جسے افغان حکومت کہتے ہیں اور طالبان جسے کٹھ پتلی حکومت کہہ کر اس کے خلاف لڑ رہے ہیں، اسی حکومت کے ساتھ ڈیل کرکے جماعت اسلامی کے ہیرو گلبدین حکمتیار کابل کے سیاسی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔

اب ہم حیران ہیں کہ گلبدین اور ربانی کی فتح بھی جنرل حمید گل اور ہمارے مذہبی لیڈروں کی فتح ہوتی ہے اور ان کے دشمن طالبان کی فتح بھی ان کی فتح ہے۔

مجاہدین کی فتح بھی پاکستان کی پالیسی کی کامیابی ہوتی ہے اور مجاہدین کے دشمن نمبرون طالبان کی فتح بھی پاکستان کی پالیسی کی کامیابی ہوتی ہے۔ آخر حد ہوتی ہے۔ اوپر سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کریڈٹ لینے کے چکر میں اپنا فلسفہ جھاڑنے لگے ہیں حالانکہ امریکہ طالبان ڈیل کے عمل سے ان دونوں کا اتنا ہی واسطہ تھا جتنا کہ اشرف غنی اور ان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ قطر ڈیل امریکہ کی فتح ہے اور نہ طالبان کی۔ فتح وہ ہوتی ہے کہ جس میں اپنے موقف کو آپ منوا لیں۔ یہ فتح نہیں بلکہ ڈیل ہے جس میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے حصے کی حقیقت تسلیم کر لی ہے اور دونوں ماضی کے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

امریکہ اگر نائن الیون سے پہلے یا بعد میں جنگ کی بجائے سفارتی اور مالی سفارتکاری سے کام لیتا تو لاکھوں افغانوں اور اپنے ہزاروں فوجیوں کو مروائے بغیر طالبان سے یہ باتیں منوا سکتا تھا جو آج منوائیں لیکن تب وہ طاقت کے غرور میں مبتلا تھا۔ وہ طالبان کو کچلنا چاہتا تھا۔ آج اس نے طالبان کو ایک سیاسی حقیقت مان کر اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے طالبان سے یہ بات منوالی۔

یہ بھی دیکھئے: 29 فروری ، جیو نیوز کا پروگرام’ جرگہ ‘سلیم صافی کے ساتھ

یوں یہ امریکہ کی پسپائی ہے ۔ اسی طرح طالبان سے تب امریکہ اور دنیا کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ القاعدہ سے اپنا تعلق توڑیں لیکن تب وہ کہہ رہے تھے کہ یہ ان کے ایمانی اور پختون غیرت کے منافی ہوگا۔ آج انہوں نے یہ لکھ کر دیا کہ وہ القاعدہ اور اسی طرح کی تنظیموں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔ یہ طالبان کی پسپائی ہے۔ پاکستان میں جو لوگ قطر معاہدے کو عظیم فتح قرار دے کر جشن منارہے ہیں یہی لوگ ماضی میں ملاعمر کو کم اور اسامہ بن لادن کو زیادہ ہیرو کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

اب طالبان نے ان کے ہیرو سے ناطہ توڑ دیا لیکن پھر بھی طالبان ان کے ہیرو ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ نائن الیون کے بعد القاعدہ سے ناطہ نہ توڑ کر طالبان نے افغانستان اور پاکستان کے لئے اور خود اپنے لئے ایسی جنگوں کو دعوت دی جس میں نہ صرف ان کی حکومت ختم ہوئی بلکہ خود ان کے دو امیر المومنین بھی ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ اعلانیہ طور پر ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھایا جاسکا۔

جشن منانے والے پاکستان کے مذہبی سیاستدانوں، دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیل صاحبان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ امریکی افواج کا انخلا بین الافغان مذاکرات کی کامیابی اور کئی دیگر اقدامات سے مشروط ہے۔ ان شرائط کا پورا ہونا اتنا آسان نہیں۔ لکھ کر رکھ لیجئے کہ امریکی مکمل طور پر افغانستان سے نہیں نکلیں گے۔

اگر بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوئے اور طالبان افغان حکومت کا حصہ بن بھی گئے تو امریکیوں کو مکمل انخلا کا نہیں کہا جائے گا کیونکہ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسے کی ضرورت ہوگی جو امریکہ کے سوا کوئی ملک نہیں دے سکتا۔ یاد رکھئے کہ وہ حکومت جس میں طالبان حصہ دار ہوں گے بھی امریکہ کی دوست اور اس کے زیر اثر ہوگی کیونکہ افغانستان میں پیسہ چلتا ہے اور پیسہ امریکہ کے پاس زیادہ ہے۔ آپ سب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ جہاں اس بات کا امکان ہے کہ بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوں، وہاں اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ معاملہ ایسے بگڑ جائے کہ ہم ماضی کے تمام بگاڑ بھول جائیں۔

خاکم بدہن اگر معاملہ بگڑ گیا تو پھر افغانی اپنے ملک میں اس بگاڑ کے لئے پاکستان کو ماضی سے بھی زیادہ موردالزام ٹھہرائیں گے۔ یاد رکھئے کہ اب اگر امریکہ ایک بار پھر لڑنے پر آگیا تو پھر کیا ہمارے لوگ یہ عذر پیش کرسکیں گے کہ ہمارا تو طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔

اس لئے کریڈٹ لینے کے چکر میں ذرا احتیاط برتنی چاہئے اور مفت میں طالبان کے مامے چاچے بن کراپنی اور خود طالبان کی مشکلات کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

باقیوں کی حماقتیں تو سمجھ میں آتی ہیں لیکن نہ جانے یہ شاہ محمود قریشی کو کیا ہو گیا جو کریڈٹ لینے کے چکر میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے طالبان ان کی ایک جیب اور امریکی دوسری جیب میں پڑے تھے جو عمران خان صاحب کی میز پر رکھ کر انہوں نے ایک دوسرے سے بغل گیر کرائے۔

لاکھوں افغان اور ستر ہزار پاکستانی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ افغانستان تو کیا، پاکستان بھی بیس سال دہشتستان بنا رہا لیکن ہم پھر بھی سینہ تان کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں۔ امریکہ کو نکلنے پر مجبور تو کیا حالانکہ ابھی جنگ ختم ہوئی ہے، طالبان حکمران بنے ہیں اور نہ امریکی نکلے ہیں۔

About The Author

Daily Rehbar

See author's posts

Post navigation

Previous: چھٹی کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد نہ کرنیوالے تعلیمی اداروں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ
Next: مرکزی شاہراہ پرچھوٹا طیارہ گرکر تباہ، کئی افراد ہلاک

Related Stories

20_091807_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

27؍ اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
download (3)
  • آج کے کالمز/ اداریہ

*گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے اعلانات *”

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
28_104458_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘ حسن نثار

Daily Rehbar اکتوبر 24, 2024

Connect with Us

Social menu is not set. You need to create menu and assign it to Social Menu on Menu Settings.

Trending News

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ news-reporter-breaking-بریکنگ-portrait-1775740910027 1
  • اہم خبریں
  • پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ

Daily Rehbar اپریل 9, 2026
سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 2
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 3
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 4
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان

Daily Rehbar مارچ 31, 2026
مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 5
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید

Daily Rehbar مارچ 30, 2026
Copyright © 2026 All rights reserved. | Daily Rehbar by North Soft.