202

دل سے عاری حکمراں،،تحریر سلیم صافی

میری زندگی اور سوچ سنوارنے میں جن لوگوں نے بنیادی کردار ادا کیا، ان میں ڈاکٹر فاروق خان شہید نمایاں تھے۔ جذباتیت کو کم کرنے میں اس شخص نے بنیادی کردار ادا کرکے مجھ پر جو احسان کیا، اس کا بدلہ میں تو کیا میری آئندہ نسلیں بھی نہیں اتارسکیں گی۔

ایک طرف میں دیہاتی قبائلی پختون تھا اور دوسری طرف اسکول کے دنوں سے ایک انقلابی مذہبی تنظیم سے وابستہ ہوچکا تھا۔ ان کی رہنمائی اس وقت میسر نہ آتی تو نہ جانے کب کا قاتل یا مقتول بن چکا ہوتا۔ایک کامیاب سائیکاٹرسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کمال کے اسکالر، لکھاری اورمقرر لیکن ایک عظیم انسان اور مصلح بھی تھے۔

ان کی مثبت سوچ قابلِ رشک تھی۔ ان جیسا پختون کبھی نہیں دیکھا، جواپنے دشمن کے بارے میں بھی برا نہیں سوچتا تھا۔انہیں سوات کے طالبان نے شہید کیا لیکن جب تک زندہ تھے طالبان سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے بلکہ ابتدا میں وہ طالبان اور سیکورٹی فورسز کی مفاہمت کی بھی کوششیں کرتے رہے۔

ڈاکٹر محمد فاروق شہید پاکستان تحریک انصاف کے بانی جنرل سیکرٹری تھے اورپی ٹی آئی کا پہلا دستور بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔ 1997کی انتخابی مہم میں ڈاکٹر صاحب ہی عمران خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں پورے پاکستان میں گھوم رہے تھے اور ہر جلسے میں ان کا خطاب بھی لازمی ہوا کرتا تھا تاہم سال ڈیڑھ سال کی رفاقت کے بعد ڈاکٹر صاحب عمران خان کے بارے میں اس نتیجے تک پہنچے جس تک ان کے ساتھ وقت گزارنے والا ہر مخلص اور نظریاتی انسان پہنچتا ہے۔ چنانچہ خاموشی کے ساتھ ان سے راستے الگ کئے۔

علیحدگی کا اعلان کرتے وقت پریس کانفرنس بھی نہیں کی اور بطریق احسن معذرت کرکے خان صاحب سے راستے جدا کئے اور اپنے آپ کو علمی اور سماجی کاموں تک محدود کرلیا۔

ڈاکٹر فاروق خان چونکہ میرے بڑے بھائی کی مانند تھے اس لئے ان کی وجہ سے میرا بھی ابتدائی دنوں میں خان صاحب سے واسطہ پڑا اور میری ان کے بارے میں وہ رائے بن گئی جس کا اظہار میں اس وقت سےکررہا ہوں جب سے میدانِ صحافت میں قدم رکھا ہے۔

ہوا یوں کہ 2010میں جب ڈاکٹر محمد فاروق خان کو سوات کے طالبان نے مردان میں شہید کیا تو کم و بیش تمام سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے جنازے میں شرکت کی یا پھر بعد میں ان کی تعزیت کے لئے گئے لیکن عمران خان نے طالبان کے خوف سے ان کے جنازے میں شرکت کی اور نہ بعد میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کا رسک لیا۔

مہینہ ڈیڑھ بعد مجھے عمران خان نے گپ شپ کے لئے بلایا تھا درمیان میں ڈاکٹر فاروق خان کا ذکر آگیا۔ اس پورے معاملے کے ممتاز صحافی اور کالم نگار عقیل یوسفزئی چشم دید گواہ ہیں کیونکہ اس روز وہ بھی اس محفل میں شریک تھے۔ میں نے خان صاحب سے عرض کیا کہ ڈاکٹر فاروق خان آپ کے بچوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے اور آپ ان کے بچوں کے درمیان۔

پارٹی سے علیحدگی کے بعد بھی آپ کے ساتھ ان کا سماجی تعلق قائم رہا لیکن اب آپ نہ ان کے جنازے پر گئے اور نہ ان کے بچوں سے تعزیت کی لیکن بجائے اس کے کہ وہ کوئی عذر پیش کرتے،الٹا انہوں نے ڈاکٹر فاروق شہید کے بارے میں نہایت لغو باتیں شروع کر دیں۔

اب ملک اور قوم کی خاطر طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کے بارے میں ایسی لغو باتیں کی جائیں اور وہ بھی کسی غیر کے سامنے نہیں بلکہ ان کے بھائیوں جیسے دوست کے سامنے تو مجھ جیسے بندے کا ردعمل کیا ہوسکتا تھا؟۔

چنانچہ میں اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکا اور اس کے بعد میں نے جو کچھ کیا، وہ کوئی بھی عقیل یوسفزئی سے جان سکتا ہے۔بظاہر تو یہ ایک دن کا واقعہ تھا اور خان صاحب کے لئے تو یہ معمول کا ایک معاملہ تھا لیکن اس نے میرے ذہن میں اس خیال کو بھی راسخ کردیا کہ اس شخص کا دل نہیں بلکہ ان کے ہاں صرف دماغ پایا جاتا ہے۔

اس وقت سے لے کر آج تک میں مختلف طریقوں سے لوگوں تک اپنا یہ خیال منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن افسوس کہ بے تحاشا قیمت ادا کرنے کے باوجود میں اپنی بات سمجھانے میں ناکام رہا۔ اور تو میں اپنے میڈیا کے ساتھیوں اور دوستوں کو بھی یہ نہیں سمجھا سکا۔ کسی پر نواز شریف یا زرداری کا انتقام سوار تھا۔ کوئی پاپولرازم کا شکار تھا۔

کسی کو ریٹنگ کی بیماری لاحق تھی۔ کسی کی اوپر سے ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔کچھ بے چارے واقعی ان کو مسیحا سمجھ رہے تھے۔ چنانچہ میڈیا نے بحیثیت مجموعی ان کو کرکٹر سے سیاستدان اور پھر سیاستدان سے حکمران بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ہم جیسے چند لوگ اس پورے ماحول میں اجنبی بن گئے۔ عمران خان کے بارے میں مختلف رائے رکھنے کی وجہ سے کوئی لفافہ صحافی قرار دیتا رہا۔کوئی نواز شریف کا ایجنٹ کہتارہا۔

بہر حال عمران خان کو وزیراعظم بنایا گیا اور میڈیا کے جو ساتھی ان کو وزیراعظم بنانے کے مشن پر لگے ہوئے تھے، وہ مجھے طعنے بھی دیتے رہے کہ تم تو کہتے تھے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتے لیکن وہ تو بن گئے۔ میں جواب دیتا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ بن نہیں سکتے، یہ نہیں کہا تھا کہ بنائے نہیں جاسکتے کیونکہ یوں تو شوکت عزیز اور ظفرﷲ جمالی کو بھی وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے۔

ﷲ کا کرنا یہ ہوا کہ وزیراعظم بنتے ہی عمران خان حسب عادت سب سے پہلے سب سے بڑے محسن یعنی میڈیاکے پیچھے پڑ گئے۔ میڈیا، تقسیم تو ان کو وزیراعظم بنانے کے عمل میں ہوا تھا لیکن اقتدار میں آتے ہی انہوں نے میڈیا کو مالی طور پر تباہ کرنا شروع کیا اور اوپر سے سنسرشپ کا شکنجہ کس لیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں میڈیا پرسنز بے روزگار ہوئے اور بعض وہ اینکرز اور کالم نگار بھی گھر میں بیٹھ گئے یا پھر سوشل میڈیا کا سہارا لینے لگے جو ان کو وزیراعظم بنانے کی کوششوں میں ان کے سیاسی مخالفین کو رسوا کرنے کا موجب بنے تھے۔

یہاں پر بس نہیں کیا گیا بلکہ جب انہیں پتا چلا کہ یہ لوگ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں تواس کے پیچھے پڑ گئے اور جب اس سے بھی کام نہ چلا تو اب گرفتاریوں پر اتر آئے جس کا آغاز انہوں نے میر شکیل الرحمٰن کی نیب کے ذریعے گرفتاری سے کر دیا ہے۔

عمران خان صاحب چونکہ خود جیل سے بہت گھبراتے ہیں اور اس کا مظاہرہ وہ وکلا تحریک کے دوران یا پھر لاک ڈائون کے دوران اس وقت بخوبی کرچکے ہیں کہ جب ان کے کارکنوں پر ڈنڈے برس رہے تھے لیکن گرفتاری کے خوف سے وہ گیٹ سے باہر نہیں آرہے تھے، اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی طرح سب میڈیا والے بھی جیل جانے سے گھبراتے ہوں گے۔

لیکن خان صاحب یاد رکھیں کہ میڈیا میں سب ان کے پیروکار نہیں۔ یہاں پر بھی ان کو چند ایسے لوگوں سے واسطہ پڑسکتا ہے کہ جو شاہد خاقان عباسی کی طرح بہادر اورخوشی کے ساتھ جیل جانے کو تیار ہوں۔

چلیں! خان صاحب یہ کسر بھی پوری کرلیں اور مجھے اپنے میڈیا والے دوستوں کے سامنے مزید سرخرو کرلیں۔ مجھے آپ کے ہمنوا میڈیا کے ساتھیو ںنے بڑے طعنے دیے ہیں۔ کرلیں ہم سب کو گرفتار تاکہ میں میڈیا کے ان دوستوں کو اور بھی شان کے ساتھ طعنہ دے سکوں کہ مزہ آیا تبدیلی کا ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں