55

کابینہ کے اجلاس میں حزب اختلاف کے آزادی مارچ کا جائزہ

اسلام آباد سے ہمارے نمائندے نے رپورٹ دی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس

میں اسلام آباد میں جاری اپوزیشن کے آزادی مارچ اور دھرنے کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ ہے اجلاس میں ملک کی مجوعی سیاسی صورتحال کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ف کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ آزادی مارچ جاری رکھنے کے پلان بی میں احتجاج اور مظاہروں کو دوسرے شہروں اور شاہراہوں تک وسعت دینا شامل تھا۔ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں آزادی مارچ اور دھرنے کے تعلق سے حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی تبادلہ خیا کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت کی صوبائی تنظیموں سے پلان بی پر رائے مانگی ہے اورصوبائی مراکز کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ اپنی تیاری کے بارے میں مرکزی مجلس عاملہ کو منگل تک مطلع کریں۔اس دوران مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب میں عمران خان کی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خاتمے تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں