گلگت (بیورو رپورٹ) قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کے اجلاس کے دوران گرین ٹورزم پالیسی پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کے جواب میں وزیر حاجی رحمت خالق نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کا کمایا ہوا آرام سے بیٹھ کر کھا رہے ہیں، مرکز نے ہمیں کھلایا پلایا ہے، یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "آج جو لوگ ایوان میں شور مچا رہے ہیں، ایک وقت تھا کہ ان کے گھروں میں نمک تک نہیں ہوتا تھا، یہ مال مویشیوں کے ساتھ سوتے تھے۔ اب یہ اس ملک کا کھا پی کر نمک حرامی کر رہے ہیں۔”
حاجی رحمت خالق کا کہنا تھا کہ گرین ٹورزم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ کئی نشستیں ہوچکی ہیں اور ریسٹ ہاؤسز کسی نے چوری یا ڈاکے سے حاصل نہیں کیے، بلکہ باقاعدہ طریقے سے حوالے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اقتدار کے آخری ماہ میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔”
ان کے بیان پر ایوان میں گرما گرمی بڑھ گئی جس کے بعد سپیکر اسمبلی نذیر ایڈوکیٹ نے مائیک بند کروا کر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
