پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور سابق ترجمان وزیراعلیٰ علی تاج نے کہا ہے کہ این ایف سی شیئر اور صوبائی حیثیت جیسے سنگین اور بنیادی آئینی معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر حساس قومی مسائل پر محض سیاسی تماشہ دیکھنے پر مجبور ہیں۔
حفیظ صاحب اور امجد ایڈووکیٹ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے علی تاج کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شخصیات عوامی مفاد کے بجائے انتخابی فائدے کے لیے این ایف سی اور صوبائی حیثیت جیسے معاملات کو اچھال رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال تک یہی عناصر گلگت بلتستان میں اقتدار میں رہے مگر اس دوران نہ این ایف سی شیئر کی بات کی گئی اور نہ ہی صوبائی حیثیت کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آج الیکشن قریب آئے تو ایک این ایف سی کا نعرہ لگا رہا ہے اور دوسرا صوبائی حیثیت کا شور مچا رہا ہے، جبکہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب محض انتخابی نورا کشتی ہے۔
علی تاج نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے این ایف سی شیئر اور صوبائی حیثیت سے متعلق تمام عملی پیش رفت سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2022 میں صوبائی حیثیت سے متعلق آئینی ترمیم آنے والی تھی، جس کے بعد این ایف سی شیئر خود بخود گلگت بلتستان کا آئینی حق بن جاتا، مگر وفاق میں ہونے والی سیاسی سازش کے باعث یہ عمل روک دیا گیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی باہمی سازش کے نتیجے میں عمران خان کی منتخب حکومت گرائی گئی، جس کا سب سے بڑا نقصان گلگت بلتستان کو اٹھانا پڑا اور یہاں کے عوام اپنے آئینی حقوق سے محروم ہو گئے۔
حفیظ صاحب کی ایک فرمائش پر ردعمل دیتے ہوئے علی تاج نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید ایک اصولی، غیرت مند اور باوقار سیاسی لیڈر ہیں جو چند کوٹہ سیٹوں کی سیاست کے قائل نہیں تھے۔ ان کی قیادت میں گلگت بلتستان کا پہلا میڈیکل کالج منظور ہوا، تاہم حکومت کی تبدیلی کے باعث یہ منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سابق حکومت کو سازش کے تحت نہ گرایا جاتا تو آج گلگت میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا تیسرا بیچ داخلہ لے چکا ہوتا اور 400 سے زائد طلبہ و طالبات اپنے ہی خطے میں ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت بنا چکے ہوتے۔
آخر میں علی تاج نے کہا کہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب سیاسی فریب کو سمجھ چکے ہیں اور وقت آنے پر ان عناصر کو جمہوری اور بھرپور جواب ووٹ کے ذریعے دیں گے۔
76








