گلگت رمضان کے مقدس مہینے میں یونیورسٹی کی طالبہ کو مبینہ اغوا کی کوشش ناکام
پیر کے روز گلگت میں رمضان کے دوران یونیورسٹی کی طالبہ مسماۃ “ع” کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ طالبہ گھر جانے کے لیے ٹیکسی میں ذوالفقار آباد پہنچی، لیکن احتجاج کے باعث سڑک بلاک تھی۔ طالبہ نے ٹیکسی وہیں چھوڑ کر پیدل راستہ کراس کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، اسی دوران مسمی شاہد نے ٹوڈی کار نمبر LOV 8678 سے طالبہ کو خومر یرکوٹ ڈراپ کرنے کے لیے کہا۔ جب طالبہ گاڑی میں بیٹھی، تو شاہد نے پیسے دے کر دوستی کرنے کی پیشکش کی، جس پر طالبہ نے مخالفت کی اور یرکوٹ مارکیٹ کے قریب شور مچا کر چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ ڈرائیور نے گاڑی تیزی سے بھگا دی۔
واقعے کے بعد وہاں موجود ایک گاڑی نے مبینہ اغوا کار کی پیروی کی، اور خومر چوک کے پاس اسے روکنے کی کوشش کی۔ مبینہ اغوا کار ڈرائیور شاہد نے گاڑی نساء مارکیٹ کے لنک روڈ کی طرف موڑ دی، لیکن راستہ بند ہونے کے سبب موقع پر موجود افراد نے گاڑی روک دی۔ دوسری جانب، طالبہ نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر موجود لوگوں کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد مشتعل افراد نے ڈرائیور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، مذکورہ ٹوڈی کار سرکاری ہے اور گلگت کے ایک بڑے پولیس افسر کے استعمال میں تھی۔ مبینہ اغوا کار شاہد اسی پولیس افسر کا ڈرائیور اور سرکاری اہلکار ہے۔
طالبہ کا تعلق نگر سے ہے جبکہ وہ خومر یرکوٹ میں مقیم ہے۔ ڈرائیور شاہد کا تعلق کشروٹ سے بتایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد خومر اور نگر یوتھ نے شدید احتجاج کیا اور رمضان کے مقدس مہینے میں ایسے گھناؤنے جرم کے ارتکاب کرنے والے ڈرائیور کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ نگر یوتھ کے ممبر غضنفر نے کہا کہ پولیس اپنے “پیٹی بند بھائی” کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملوث اہلکار کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
272








