24

واٹس ایپ فارورڈنگ محدود کرنے سے جعلی اطلاعات میں کمی

سائبرسیکیورٹی اور جھوٹی خبروں و اطلاعات کے ماہرین نے کہا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے پیغام آگے بھیجنے کے آپشن محدود کرنے سے جعلی خبروں، غلط اطلاعات اور افواہوں کے پھیلنے میں کمی ہوئی ہے لیکن مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

واٹس ایپ نے رضاکارانہ طور پر اس سال جنوری میں ایک پیغام 20 افراد تک بھیجنے کے آپشن کو مزید کم کرکے صرف 5 افراد تک محدود کردیا تھا۔ اس سے پہلے واٹس ایپ صارفین ایک میسج 256 افراد کو بھیج سکتے تھے جسے محدود کرکے 20 کیا گیا اور اس کے بعد مزید 5 تک محدود کردیا گیا۔

برازیل اور بھارت میں واٹس ایپ کو بڑے پیمانے پر الیکشن پر اثرانداز ہونے کےلیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ خود واٹس ایپ پر بھی افواہ سازی میں مدد کے کئی الزامات لگے تھے۔

اس کے جواب میں واٹس ایپ نے پہلے 256 کا آپشن کم کرکے 20 کردیا تھا اور اب ایک پیغام ایک وقت میں صرف 5 مختلف لوگوں کو ہی بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن سائبر ماہرین کے مطابق ٹوئٹر ٹرینڈ اور فیس بک کے مقابلے میں واٹس ایپ میسجنگ انفرادی طور پر لوگوں کے درمیان ہوتی ہے جس پر گرفت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس ضمن میں خود بھارت سے تعلق رکھنے والی ایم آئی ٹی کی طالبہ کرن گرمیلا نے کہا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے پیغامات محدود کرنے کا عمل قدرے مؤثر ثابت ہوا ہے مگر اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ کرن کے مطابق واٹس ایپ کی گہرائی اور افادیت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس کےلیے انہوں نے برازیل، بھارت اورانڈونیشیا میں ہزاروں لاکھوں افراد اور سیاسی جماعتوں اور گروہوں تک رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد تینوں ممالک میں تبادلہ کیےجانے والے 60 لاکھ پیغامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کےبعد انہوں نے ایک نیٹ ورک ماڈل بنایا اور اس میں مختلف آپشنز کو مجازی ماحول یا سمیولیشن میں آزمایا اور ان پر پیغام فارورڈ کرنے کی حدود و قیود کا تعین کیا۔ اس طرح سچی یا جھوٹٰ معلومات پھیلنے کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ پیغام کو صرف 5 افراد تک محدود کرنے سے پیغامات وائرل ہونے کی شرح پر زد پڑی۔ 80 فیصد پیغامات دو دن میں دم توڑ گئے جبکہ 20 فیصد پیغامات برقرار رہے اور آگے بڑھتے رہے۔

ماہرین نے واٹس ایپ کو ’’کورانٹائن‘‘ کی تجویز دی ہے جس کے تحت خاص پیغامات کی مخصوص لوگوں تک رسائی کو براہِ راست محدود کردیا جائے۔ لیکن اس سے قبل وائرل ہونے والے پیغام کی صحت کا جائزہ لے لیا جائے اور اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں