42

طلبہ کی نئی ایجاد، معذور افراد کیلئے وضو میں مددگار وہیل چیئر تیار

اماراتی حکام نے طلبہ کے ایک گروپ کو 80 ہزار درہم بطور انعام دئیے ہیں جنہوں نے معذور مسلمانوں کےلیے ایسی وہیل چیئر تیار کی ہے جو عبادت کےلیے وضو کی انجام دہی میں مدد فراہم کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں واقع زید یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ کے ایک گروپ نے ایسی وہیل چیئر تخلیق کی ہے معذور مسلمانوں کو وضو کرنے میں مددگار ثابت ہوگی،ان کی ایجاد میں پانی کے تھیلے اور وہیل چیئر سے منسلک فلٹریشن سسٹم شامل ہیں۔

اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ انوکھی وہیل چیئر کے خالق مہرا الفلاسی اور حصّہ المرزوقی دبئی کی زیدیونیورسٹی میں سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں جنہوں نے وہیل چیئر پر منحصر اپنے رشتے داروں کو وضوکےلیے جدوجہد کرتے دیکھ کر ایسی وہیل چیئر بنانے کا عزم کیا جو معذور مسلمانوں کو وضو کرنے میں معاون ہو۔

میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ ان ہونہار طلبہ کی ایجاد میں وہیل چیئر سے منسلک فلڑیشن سسٹم اورپانی کے تھیلے بھی شامل ہیں جس سے صارفین سہولت کے ساتھ وضو کرسکتے ہیں۔

ان کے پروجیکٹس کو متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے سائنس میلے ’ تھنک سائنس‘ میں رواں برس کے آغاز میں پیش کیا تھا اور اب اس پروجیکٹ کو مستقبل کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے فیوچر انیشی ایٹو ایٹ جی ٹیکس پروجیکٹ کے تحت ابتدائی فنڈنگ فراہم کی گئی۔

ہونہار طالبہ الفلاسی کا کہنا ہے کہ یہ وہیل چیئر اپنے افراد کےلیے تیار کی گئی ہے جو معذور ہیں تاکہ انہیں وضو کرنے میں کچھ سہولت میسر آسکے اور نماز کےلیےاس میں قطب نما(کمپاس) بھی لگایا ہے جو کعبۃاللہ کی سمت کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کامقصد معذور افراد کو خود اعتمادی اور وضو ونماز کے لئے سہولت فراہم کرنا ہے، ہم چاہتے ہیں عبادت کےلیے آسانیاں پیدا کریں۔

طالبہ کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کی تیاری میں ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ کس طرح روزمرہ استعمال کی وہیل چیئر میں مذکورہ چیزوں کو منسلک کریں۔

طالبہ نے بتایا کہ ہم نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ بطور انعام ملنے والی رقم کو ایسے مزید پروجیکٹس کی تیاری میں صرف کریں گے، ٹیم ایسی مزید وہیل چیئر تیارکرنے کی منصوبہ سازی کررہی ہے جس میں مزید خصوصیات شامل کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں