رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جٹیال گلگت میں احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 16 سالہ طالب علم علی ربان ولد عون علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، جس کے بعد جٹیال میں سکیورٹی فورسز کی گولیوں سے ہونے والے شہداء کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے۔ قبل ازیں اسی واقعے میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار چکے تھے۔
تفصیلات کے مطابق رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ہونے والے احتجاج کے دوران جٹیال کے علاقے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں علی ربان شدید زخمی ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق گولی ان کے سینے کے قریب لگی تھی جس کے باعث ان کی حالت انتہائی نازک ہو گئی تھی۔ انہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال گلگت منتقل کیا گیا جہاں وہ وینٹیلیٹر پر زیرِ علاج رہے، تاہم جانبر نہ ہو سکے۔
مرحوم کا تعلق ضلع نگر کے علاقے ہوپر سے تھا جبکہ وہ خومر گلگت میں رہائش پذیر تھے۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ علی ربان کیڈٹ کالج سکردو کے طالب علم تھے اور انہیں ایک ذہین اور باصلاحیت نوجوان کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
مقامی حلقوں کے مطابق شہید کی میت کو چھلمش فیض آباد منتقل کیا جائے گا جہاں نمازِ جنازہ اور تدفین عمل میں لائی جانے کا امکان ہے۔ مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
