صحافی عدنان راوٹ نے حالیہ واقعات میں جاں بحق افراد کے حوالے سے ذمہ داران سے کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی مؤقف کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین مسلح تھے تو پھر اسلحہ برآمدگی کی تفصیلات اور شواہد عوام کے سامنے کیوں نہیں لائے جا رہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 16 افراد کی اموات ہوئیں، کیا یہ تمام افراد مسلح تھے اور کیا انہوں نے واقعی فائرنگ کی؟ اگر ایسا ہے تو پھر سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد سامنے لائے جائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
عدنان راوٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مظاہرین کی فائرنگ سے کتنے سکیورٹی اہلکار جاں بحق یا زخمی ہوئے، اور کیا ریاستی املاک انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں کہ براہِ راست گولی چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق اب بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں اور عوام حقیقت جاننا چاہتے ہیں کہ ان قیمتی جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔
پوسٹر کے لیے مختصر متن
16 اموات… مگر سوال اب بھی باقی ہیں
کیا تمام جاں بحق افراد مسلح تھے؟
اگر فائرنگ ہوئی تو سی سی ٹی وی فوٹیجز کہاں ہیں؟
مظاہرین کی فائرنگ سے کتنے سکیورٹی اہلکار متاثر ہوئے؟
کیا ریاستی املاک انسانی جانوں سے قیمتی ہیں ؟
"میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں؟”
