Skip to content
Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • آج کا اخبار
  • گلگت بلتستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و صحت
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کھیل و ثقافت
  • ویڈیوز
  • کالمز/ اداریہ
  • آج کے کالمز/ اداریہ

بس شادی ہی مقصد ہے؟تحریر.. راضیہ سید

Daily Rehbar فروری 26, 2020
shadi

عطا الحق قاسمی امریکا گئے تو ایک لڑکی نے ان سے حیرانی سے پوچھا ’’کیا سچ مچ آپ کے ملک میں شادیاں لڑکا لڑکی کی مرضی کے بغیر ان کے والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی صورت سے بھی آشنا نہیں ہوتے؟‘‘

عطا الحق قاسمی نے کہا کہ ’’بات صرف ایک حد تک درست ہے، یعنی شادیاں طے دلہا دلہن کے والدین ہی کرتے ہیں مگر طے کرنے سے پہلے دلہا دلہن کی رائے ضرور لیتے ہیں۔‘‘

’’ انکار کردیں تو کیا ہوتا ہے؟‘‘ لڑکی نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’پھر بھی کردیتے ہیں۔‘‘ عطا الحق قاسمی نے ٹھنڈی سانس بھر کر جواب دیا۔

معروف دانشور نے ہمارے معاشرے کی بالکل درست معنوں میں عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ شادی نہ صرف ایک اہم فریضہ ہے بلکہ اعلیٰ اخلاقی اور معاشرتی قدروں کی پاسداری کی بنیاد بھی ہے۔ شادی کو اہمیت اس لیے دی گئی کہ اس سے ایک نسل پروان چڑھ سکے اور باقاعدہ ایک خاندان کی بنیاد رکھی جاسکے۔

نہ صرف اسلام بلکہ دیگر مذاہب میں بھی شادی جیسے بندھن کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، تاکہ دو افراد کے باہم اشتراک سے معاشرے کو برائیوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔

انسان کی زندگی میں بلاشبہ شادی کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے بچپن میں ہی ہمارے ماں باپ بہن بھائی ہماری شادی کے خواب دیکھتے ہیں اور جوان ہونے پر ہم خود کچھ سپنے بننے لگتے ہیں۔

اس سب تمہید کا مقصد شادی کی اہمیت اور اس کی حمایت میں بولنا نہیں اور نہ ہی اس خاندانی نظام کو برا بھلا کہنا ہے، لیکن اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شادی ہی تمام مسائل کا حل ہے تو یہ ضرور غلط ہے۔

شادی کرنا بالکل غلط نہیں لیکن اس کے طریقہ کار میں اب بہت سی الجھنیں اور برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ لڑکے اور لڑکی دونوں کو ہی شادی نہ کرنے پر معاشرے میں ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ مختلف قسم کے جملے سننا روز کا معمول بن جاتا ہے۔ آپ نے شادی کی نہیں یا ہوئی نہیں؟ آپ کو تو نوکری میں پروموشن اور تنخواہ میں اضافے سے لگاؤ ہے، اسی لیے آپ اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے کرنے سے کترا رہے ہیں۔ آپ کو گھر جانے کی کیوں جلدی ہے؟ آپ کے کون سا چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے ہیں؟ بس اب کر بھی لیں شادی، کیا انکل بننے کا ارادہ ہے؟

لڑکیوں کی زندگی تو اس بات سے ہی اجیرن کردی جاتی ہے کہ دیکھو اب تمہارے لیے کوئی شہزادہ تو آنے سے رہا، لہٰذا خوابوں کے محل سے باہر نکل کر حقیقی دنیا سے نظریں ملاؤ۔ جب لڑکی کی عمر زیادہ ہوجائے تو اسے ’جو اور جیسا ہے‘ کی بنیاد پر شادی کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف لڑکے کو پڑھی لکھی اور حور لڑکی سے شادی کرنے کےلیے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

سچ پوچھیے تو بہت سے والدین بہتر سے بہتر کی تلاش اور بچوں کی کمائی سے آنے والی آمدنی کے ہاتھ سے نکل جانے کے خوف سے بروقت فیصلہ نہیں لیتے۔

لڑکیوں کو بہت زیادہ پڑھا لکھا دیا جاتا ہے اور جب ان کے مطابق رشتے نہیں ملتے تو کسی سے بھی نباہ کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اور بالفرض کوئی لڑکی یا لڑکا کسی کو پسند بھی کرلے تو ذات پات کی فرسودہ زنجیریں ان کے قدموں میں ڈال دی جاتی ہیں اور ان سے قطع تعلق کرلیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بیٹی کو بوجھ اب بھی سمجھا جاتا ہے اور یہ باتیں میں اکیسویں صدی کی ہی کررہی ہوں۔ جن گھرانوں میں والدین نہ ہوں اور شادی شدہ بہن بھائی ہوں اور بالخصوص بہنوئی اور نندیں ہوں، وہاں اکیلی لڑکی پر طنز کے تیر برسائے جاتے اور جلد از جلد اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی حال کنوارے لڑکوں کا بھی ہے کہ ہم بھابھیاں کب تک اس کی روٹیاں پکائیں؟ اس کےلیے بیوی ڈھونڈو۔

لیکن شادی جلدی کرنے کے چکر میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان ایک رسمی سی ملاقات کو ان کے درمیان انڈراسٹینڈنگ سمجھ لیا جاتا ہے اور جلدی شادی کا شور مچ جاتا ہے۔ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ آپ انگلینڈ نہیں رہ رہے کہ ہر دن ملاقاتیں کرتے پھریں، یہ پاکستان ہے۔

اب یہ سب عوامل بھی شادی سے لگاؤ پیدا کرنے کے بجائے اس سے منحرف کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جبکہ اس کے برعکس منگنی اس لیے کی جاتی ہے کہ فریقین کم ازکم ایک دوسرے کو پرکھ لیں۔ اب ذہنی ہم آہنگی سے مراد یہ نہیں کہ آپ روز پارکس میں تفریح کی غرض سے نکل جائیں یا زیادہ سے زیادہ ہوٹلنگ کریں، کیونکہ اعتدال ضروری ہے۔ تاہم کبھی کبھار ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا، جس میں آپ حدود و قیود کا خیال بھی رکھ سکیں۔

بہت سے گھرانوں میں لڑکیوں کی شادی بس ایک بوجھ سمجھ کر کی جاتی ہے۔ یعنی اب یہ اپنے گھر کی ہوگئی اپنے مسائل خود حل کرے۔ انھیں اب اپنے خاندان کو پریشان کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یعنی لڑکی کی شادی کی مثال بالکل اس طرح ہے کہ جیسے مردے کو قبر میں دفنا کر سب واپس آجائیں اور اس کے بعد مردہ جانے اور اس کا خدا جانے۔ بالکل اسی طرح لڑکی جانے اور اس کا سسرال۔

ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا اور بے جوڑ عجلت میں کیے گئے رشتے نباہ کا باعث نہیں بنتے۔ لڑکا یا لڑکیاں اگر معاشرتی طور پر والدین کی دی گئی ڈھیل یا بری صحبت کی وجہ سے خراب ہونے لگیں تو ان کی فوری شادی طے کردی جاتی ہے اور اس کےلیے ہمیشہ اچھے خاندانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، تاکہ وہ بے راہ رو لڑکے یا لڑکی کو سدھار لیں۔ اب یہاں یہ نہیں سوچا جاتا کہ جو لڑکے یا لڑکیاں ماں باپ کی ہدایت سے نہیں مانتے، وہ اتنے عرصے بعد شریک حیات کے منع کرنے پر کیسے خود کو سدھار لیں گے؟

انہی وجوہات کی بنا پر بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی ذمے داریوں سے بھاگنے لگے ہیں۔ وہ اس اچھے طرز زندگی کو اپنے لیے وبال جان سمجھتے ہوئے شادی سے ہی منحرف ہوچکے ہیں۔ جبکہ سوسائٹی کےلیے قابل قبول نوجوان ایسے ہیں جو شادی کرکے کسی بھی طرح اپنا گھر بسا رہے ہیں۔ اب چاہے وہ اپنی شادیوں سے خوش ہیں یا ناخوش یہ ایک الگ موضوع ہے۔

اس سب بحث کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے میں ایب نارملیٹی کی شرح کو کم کرنے کےلیے ہمارے بڑے اپنا کردار ادا کریں۔ جس کےلیے انھیں نئی نسل کو شادی کے بندھن کو قبول کرنے سے متعلق مسائل کے حل کی طرف توجہ دینا ہوگی۔

About The Author

Daily Rehbar

See author's posts

Post navigation

Previous: کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ایرانی قوم کا بڑا اقدام۔۔۔ فوج بھی آگئی میدان میں
Next: صحت مند زندگی کیلئے گرین ٹی بہترین ہے

Related Stories

20_091807_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

27؍ اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
download (3)
  • آج کے کالمز/ اداریہ

*گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے اعلانات *”

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
28_104458_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘ حسن نثار

Daily Rehbar اکتوبر 24, 2024

Connect with Us

Social menu is not set. You need to create menu and assign it to Social Menu on Menu Settings.

Trending News

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ news-reporter-breaking-بریکنگ-portrait-1775740910027 1
  • اہم خبریں
  • پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ

Daily Rehbar اپریل 9, 2026
سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 2
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 3
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 4
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان

Daily Rehbar مارچ 31, 2026
مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 5
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید

Daily Rehbar مارچ 30, 2026
Copyright © 2026 All rights reserved. | Daily Rehbar by North Soft.