گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے عام اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک حکومت کی جانب سے ترقیاتی و انتظامی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایک جامع ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کے تبادلے یا تقرری کا فیصلہ صرف عوامی مفاد کے حقیقی معاملات میں اور الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری یا این او سی حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری عہدیدار یا منتخب نمائندہ الیکشن کے دوران نئے ترقیاتی منصوبے یا اسکیموں کا اعلان یا افتتاح نہیں کرے گا۔
الیکشن کمیشن نے تمام بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز کو فوری طور پر منجمد کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ تاہم، اگر کسی معاملے میں انتہائی ہنگامی ضرورت یا عوامی مفاد کی خاطر فنڈز کے استعمال کی ضرورت پیش آئے تو صرف الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بعد یہ ممکن ہوگا۔
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا کہ جاری منصوبوں کے فنڈز کا استعمال صرف منظور شدہ پلاننگ مینوئل اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کے مطابق ہی کیا جائے، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی اجازت نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ نئے انتظامی یونٹس، سب ڈویژنز یا دیگر علاقائی اکائیاں بنانے یا موجودہ حدود میں تبدیلی الیکشن کے دوران کسی بھی صورت نہیں کی جا سکتی۔
مزید ہدایات میں کہا گیا ہے کہ نئی آسامیاں تخلیق کرنے، عہدوں کی اپ گریڈیشن یا ری ڈیزائینیشن کے تمام کیسز بھی اس دوران محکمہ خزانہ یا ایس اینڈ جی اے ڈی کو نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف وہی کیسز جنہیں عوامی مفاد میں ضروری سمجھا جائے، الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری سے نمٹائے جا سکیں گے۔
الیکشن کمیشن نے نئے مینٹیننس کاموں کے لیے اضافی فنڈز کے اجراء پر بھی پابندی لگا دی ہے، سوائے ان معاملات کے جو ہنگامی نوعیت کے ہوں اور عوامی مفاد میں ناگزیر سمجھے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کسی نئی پالیسی، ہدایت، قاعدے یا ضابطے کا اجراء یا نفاذ اس حکم نامے کے بعد نہیں کیا جا سکے گا، اور یہ پابندیاں نئی صوبائی حکومت کی تشکیل تک برقرار رہیں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور آئندہ گلگت بلتستان کے عام و بلدیاتی انتخابات کے اختتام تک مؤثر رہیں گے۔
