گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں گزشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ کے دوران جعلی کرنسی کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے خاص طور پر مقامی تاجر برادری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اسی سلسلے میں سپر ڈسکاؤنٹ ایجنسی اینڈ بیکرز نگر میں گزشتہ رات جعلی نوٹ کے ذریعے خریداری کی کوشش کرنے والا ایک شخص رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
گرفتار ملزم کا تعلق یاسین سے بتایا جا رہا ہے، جبکہ اس کے دو ساتھی — جن میں ایک مزید یاسین اور ایک مقامی باشندہ شامل ہے گاڑی میں موجود تھے جو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ سپیشل برانچ نگر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو تحویل میں لے کر پولیس کے حوالے کردیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گروہ راولپنڈی سے رینٹ کار کے ذریعے مختلف علاقوں میں جعلی کرنسی پھیلا رہا تھا، اور نگر پہنچنے سے پہلے بھی متعدد مقامات پر خریداری کے نام پر جعلی نوٹوں کا استعمال کیا جا چکا ہے۔
تاجروں نے متعلقہ اداروں بالخصوص پولیس، انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مکروہ دھندے کے اصل ماسٹر مائنڈز کو بے نقاب کرتے ہوئے عبرتناک سزا دی جائے، تاکہ یہ کیس روایتی گورکھ دھندے کا شکار ہو کر مافیا کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ نہ بنے۔








