39

میں کس گلی میں کھیلوں؟ تحریر،،، اکرم ثاقب

تہذیب اپنے زوال کی اتھاہ گہرائی تک پہنچ چکی۔ وہ معصوم کلیاں اور پھول جو گلشن ہستی کا ساماں تھے، آج ہوس پرست درندوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ وہ نازک کونپلیں جو ابھی تنے سے نکلی ہی ہوتی ہیں، کاٹ لی جاتی ہیں۔ لاشے بکھرے پڑے ہیں جس گلی میں جاؤ، جس محلے میں جاؤ، جس شہر کا رخ کرو، ہر طرف یہی وحشت نظر آتی ہے۔ انسان انسان کو ڈھونڈ رہا ہے کہ وہ کہاں گیا۔ کبھی بچپن بھی ہوا کرتا تھا اور لڑکپن بھی، یہ دونوں ادوار حیات نہایت پاکیزہ گردانے جاتے تھے، مگر آج بچپن کا دوسرا نام خوف ہے۔ مائیں جلد سے جلد اپنے نازک پھولوں کو تناور درخت دیکھنا چاہتی ہیں کہ کہیں یہ ان بھیڑیوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں جو ہر گلی کے موڑ پر اپنی خونیں نظریں گاڑے پاگل ہوئے جاتے ہیں۔

یہ جوظالم ہیں یہ بھی تو کسی نے جنم دیئے ہیں اور جنم دے کر شائد کوڑے دان میں پھینک دیئے۔ بھوک اور ہوس کے کوڑے دان میں۔ یہ اپنے ہی گھروں میں شائد ایسا تماشا دیکھتے رہے ہیں۔ شائد ان کے سامنے ان کی مان بہن کی عزت بے معنی رہی ہے۔ شائد ان کے ہاں عزت کا تصور ہی نہ رہا ہو، تبھی تو وہ عمر کی تفریق بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے تقسیم ہوئے ہیں کہ بس گناہ ہی جمع کیے جارہے ہیں۔ اور آخر لاکھ چھپنے کے بعد تختہ دار پر مصلوب ہوہی جاتے ہیں۔ یہ درندے ہمارے اس شکستہ معاشرے کے جنگل کے بادشاہ ہیں۔ یہ ہمیں ہمارا ہی آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم انہیں کوستے ہیں، انہیں گالیاں دیتے ہیں، انہیں معاشرے کا ناسور سمجھتے ہیں، مگر یہ ہماری ہی پیداوار ہیں۔ ہم نے ہی انہیں پالا ہے۔ ہم نے ہی انہیں اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے کہ اب یہ سانپ اپنے ہی بچوں کو کھائے جارہے ہیں۔

انہیں کس نے پناہ دی؟ ضرور کسی صاحب ثروت اور صاحب جاہ و حشمت نے اپنی پیٹھ پیچھے انہیں چھپایا۔ انہیں شہ ملی اور یہ اور آگے بڑھے۔ اس ناہنجار مقتدر کو انہوں نے اپنا آلہ کار بنایا، اسے کچھ پرچیاں دیں یا اس کےلیے کوئی دوسرا جرم کیا، اس کا جرم اپنے سر لیا اور اس نے انہیں سر پر بٹھا لیا کہ یہ پاگل کتے ماؤں کے آنگن اجاڑتے پھریں۔ کہیں کوتوال نے اپنے بھتے کےلیے انہیں نظر انداز کردیا اور کہیں عزت کے مارے والدین خاموشی اختیار کرگئے۔

اب معصوم بچے گھر سے نکلتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں۔ انہیں اب یہ اود بلائیں نظر آنے لگی ہیں۔ انہیں ماں باپ نے ان سے خوفزدہ کردیا ہے۔ ان کے کھیل کود کے دن اب خوف کے سائے میں بند کمروں میں کٹتے ہیں۔ اب وہ باہر نکلنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ امی کس گلی میں جا کر کھیلنا ہے؟ وہ محلہ جو ان کا بہت بڑا کھیل کا میدان تھا، وہ گاؤں جو ان کی جاگیر تھا، جہاں چاہتے تھے وہیں جاتے تھے، سب ان کے ماں باپ تھے، بہن بھائی تھے۔ اب وہ سارے انہیں اپنے دشمن اور شیطان نظر آتے ہیں۔ تبھی تو گھر سے نکلتے وقت اپنے والدین کو دو تین مرتبہ گلے لگاتے ہیں کہ پتہ نہیں کس گلی کے کس نکڑ پر بھیڑیا کھڑا ہو اور بعد میں گلے ملنے کا موقع ہی نہ ملے۔

نوٹ: روزنامہ رہبر گلگت بلتستان اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ
rahbargb@gmail.comپر ای میل کردیجیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں