182

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے!،…تحریر امتیاز عالم

دُنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ اب تک 135ملکوں میں 5ہزار سے زائد افراد اس کا لقمہ بن چکے ہیں اور ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ جن کی خبر نہیں اُن کی پاکستان کی طرح گنتی نہیں۔ چین میں مہلک وبا کا زور ٹوٹا تو اب یورپ اس کی لپیٹ میں ہے اور ہمسائے میں ایران اس کی بدترین گرفت میں۔ ایسے میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اس عذاب سے بچنے سے رہا۔ عالمی معیشت دھڑام سے نیچے آ گری ہے۔ عالمی سفر اور ہوائی راستے بند ہو گئے ہیں۔ تمام طرح کے پبلک مقامات ممنوع علاقہ ہوئے اور سرحدیں بند کر دی گئیں۔ دسمبر میں جب یہ وبا چین کے صوبہ ووہان میں پھوٹی تو سراسیمگی سے بچنے کے لیے خبر کو دبا دیا گیا اور اس ڈاکٹر لی ونلیانگ کی بھی شامت آئی جس نے اس کا انکشاف کیا تھا۔ یہ بحث علیحدہ ہے کہ آیا یہ صوبہ ووہان کی مچھلی منڈی سے شروع ہوئی یا پھر امریکی یہ وبا وہاں لائے تھے۔ غلطی پاکستان کی پاکباز حکومت نے بھی وہی کی جو صوبہ ووہان کی قیادت نے کی تھی۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ہم شکرانوں کی رٹ لگا رہے تھے کہ تین درجن کے قریب اس مرض کے مریض سامنے آ چکے ہیں لیکن نہ کوئی تیاری کی گئی۔ وقت پہ کوئی بولا اور متحرک ہوا بھی تو سندھ کا چیف منسٹر مراد علی شاہ اور چین میں اس وبا کے پھوٹنے کے تین ماہ بعد وفاق اور اس کے معتبر اداروں کو ہوش آیا بھی تو اس اصرار کے ساتھ کہ یہ کوئی ہیلتھ ایمرجنسی نہیں ہے پھر یہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کیا کرے گی؟ اصل کام تو ہماری سویلین اور فوجی میڈکل کورز نے کرنا ہے اور سب سے پہلے خود شہریوں نے اپنی نقل و حرکت محدود تر کرنی ہے، ہاتھ صاف رکھنے ہیں اور معانقے سے باز رہنا ہے۔ اس ہنگامی حالت میں ہم صرف چین سے رہنمائی اور مدد لے سکتے ہیں۔

کورونا وائرس کی طرح کئی اور وبائیں بھی ہیں جو مخلوقِ خدا کو تہس نہس کرنے میں جُتی ہیں۔ کثافت پھیلانے والے منافع بخش کاروبار، دُنیا کے بڑے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس جن کا دھندہ صرف مہلک ہتھیاروں کی دوڑ کو فروغ دینا ہے جس کے بڑے خریداروں میں بھارت پہلے نمبر کے بعد پاکستان بھی تیسرے نمبر پہ ہے۔ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کہ اب دُنیا کی کل 80فیصد دولت چند امیر گھرانوں کے ہاتھ میں ہے اور غربت و افلاس کا سمندر ہے کہ اربوں لوگوں کو ہڑپ کیے جا رہا ہے اور استحصالی نظام کے مستفیضین اور مبلغین کے چہروں پہ کسی پشیمانی کا کوئی شائبہ نہیں۔ کساد بازاری کے ساتھ ساتھ سیاسی دُنیا بھی ایک ہیجان کی لپیٹ میں ہے اور ہر طرف خواص کی جمہوریت کی پسپائی کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے پاپولسٹ، قوم پرست، فرقہ پرست اور فاشسٹ اُبھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر دلعزیز اور بھارت میں سیکورٹی رسک ناول نگار میری دوست ارون دھتی رائے نے دہلی میں شاہی باغ کی پُرامن شہری حقوق کی جدوجہد پر فاشسٹ نریندر مودی کے ہندتوا کے بلوائیوں کے حملے کو بھارت کا فرقہ وارانہ کورونا وائرس قرار دیا ہے لیکن بھارت میں شہریت کے قانون میں فرقہ پرستانہ ترمیم اور شہریت کے قومی رجسٹر کے خلاف اُٹھنے والی تحریک دبنے کو نہیں اور بھارت کی سیکولر جمہوری قوتیں اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔

پاکستان میں بھی ایک عجیب الخلقت سیاسی کورونا وائرس عود کر آیا ہے۔ آئین تو ہے لیکن آئین سے ماورا آمرانہ قوتوں کا راج ہے۔ جمہوریت ہے لیکن شہری و انسانی حقوق کا دائرہ ہے کہ ہر روز سمٹتا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہے لیکن کمزور اور نحیف۔ حکومت ہے لیکن سلیکٹڈ۔ اپوزیشن ہے تو لیکن بانجھ۔ میڈیا بھی آزاد تھا، اب نہیں، اور زیادہ تر کاسہ لیس۔ جو تھوڑا بہت صحافیانہ رکھ رکھائو برقرار رکھنے پہ تھوڑے بہت مصر تھے اُن کا پہلے معاشی قتل کیا گیا، آزاد اور پیشہ ور صحافیوں کو آف اسکرین کیا گیا اور پھر اُن کی اسکرین آف کر دی گئی۔ یہ عجب بات ہے کہ جنگ گروپ جیسا میانہ رو اور مصلحت پسند لیکن مقابلتاً آزاد میڈیا گروپ بھی کبھی ایک طاقتور عنصر کو نہ بھایا تو کبھی بےپیندے کے فاشسٹ حکمرانوں کو۔ جنگ/ جیو اور ڈان بار بار نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں پردئہ اسکرین اور اخباری منڈی سے غائب ہوتے رہے۔ ابھی میر شکیل الرحمٰن کو ایک 34 سالہ پرانی پراپرٹی ڈیل میں گرفتار کیا جانا ہی تھا کہ جیو ریٹنگ میں نیچے کر دیا گیا اور اب اسکرین سے یا تو یکسر غائب کر دیا گیا ہے یا پھر کسی گمشدہ نمبر پہ گم کر دیا گیا ہے۔ کوئی پوچھے کہ کس قانون اور کس اتھارٹی کے تحت؟ مجھے یاد ہے کہ صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ذوقِ خدائی رکھنے والے ایک غازی نے کہا تھا کہ ’’جیو‘‘ سلامتی کی ڈیڈ لائنز کراس کر رہا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں صفائیاں دی گئیں اور گھر کی صفائی کرتے ہوئے ’’اچھے بچے‘‘ بننے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا گیا لیکن پھر بھی مکتی نہ ہوئی۔ بیچ میں وزیراعظم عمران خان کی فسطائی انا دُم پہ کھڑی ہو گئی اور چیئرمین نیب بھی آپے سے باہر ہو گئے، اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ اب ہر سطح پہ یہ ایک چومکھی لڑائی ہے۔ آزادیٔ صحافت اور حقِ اظہار پہ حملہ آور فسطائی کورونا وائرس سبھی میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ کوئی ڈھنڈورچی بن جائے گا تو کوئی وعدہ معاف گواہ پھر چین کی طرح کورونا وائرس کی خبر دبانے کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ اور جب ادارے بند ہوں گے یا کنگال ہوں گے تو بیروزگار صحافیوں کی فوج ظفر موج میں بےپناہ اضافہ ہوگا، تنخواہیں نہیں ملیں گی اور یوں مالک اور مزدور صحافی کی لڑائی چل نکلے گی اور ہم سب میڈیا والے باہم دست و گریباں ہو جائیں گے۔ آج میر شکیل الرحمٰن کی نیب کی سلاخوں کے پیچھے سے مسکراتی تصویر سے اُن کی مزاحمتی ہمت کا اظہار دیکھ کر قلبی مسرت ملی اور اس پر مضحکہ یہ کہ نیب نے ہی یہ تصویر لیک کی اور اب نیب ہی اس بریکنگ نیوز کی تحقیقات کرے گی۔ اب جبکہ جمہوری قوتیں دم چھوڑ بیٹھی ہیں اور پاکستان ایک عجیب الخلقت آمرانہ فسطائی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے تو پاکستان کی شہری و انسانی حقوق کی تحریکوں کو میدان میں اُترنا چاہئے ورنہ یہ فسطائی کورونا وائرس وطنِ عزیز اور اس کے رہنے والوں کو کھا جائے گا۔ شاعر جون ایلیا نے شاید ایسے ہی وقت کے لیے کہا تھا

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں