67

نفرت کی آگ

بغض اور عداوت پھر بھی کسی حد تک قابل برداشت ہوتے ہیں لیکن جب بات نفرت تک آ جائے، آپ کسی کا چہرہ تک دیکھنا پسند نہ کریں اس شخص کا نام بھی سننا پسند نہ کریں تو سمجھیں یہ نفرت کا آخری لیول ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں معاملہ حسد، بغض اور عداوت سے نفرت تک پہنچ چکا ہے، ہر دوسرا شخص بلاوجہ اپنے ساتھ بیٹھے ہی شخص سے ایسے نفرت کر رہا ہے جیسے اس نے اسی کا حق کھایا یا اس کے حصے کی روٹی کھا رہا ہے، پہلے لوگ جائیدار، وراثت، رشتے داری یا شادی یاہ پر آپس میں لڑائیاں کرتے تھے لیکن اب ہر طرف ایک ہی لڑائی ہے وہ سیاسی لڑائی ہے۔

آپ نے کبھی غور نہیں کیا کہ پہلے تو ہماری سیاسی تاریخ اتنی تلخ نہیں تھی، سیاست رواداری ،تنقید ،اصلاح اور برداشت کا نام ہے لیکن اب سیاست صرف نفرت تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، سیاست میں نفرت کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے ایک ہی ٹیبل، گھر یا دفتر میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کے ایسے خلاف ہوچکے ہیں جیسے ان کی ذاتی دشمنیاں ہیں، سیاست میں شائستگی ، تحمل مزاجی اور برداشت لیڈرشپ لیول تک ختم ہو چکی ہے۔

ایک شخص اپنے علاوہ سب کو چور سمجھتا ہے باقی سب اسکو ملک دشمن سمجھتے ہیں، ایک شخص دن رات تقریریں کرتا ہے ،نیوٹرل، جانور،غدار، چور اور ڈاکو کا بیانیہ بناتا ہے جبکہ اس کے مدمقابل ان سب الزامات کا دفاع کرتے ہیں اور جوابی اس کو طعنے دیتے ہیں، یہی نفرت نیچے گلی محلوں میں انکے کارکنوں تک پہنچ رہی ہے، یہ نفرت آگ کی طرح پھیل رہی ہے لیکن مجال اسکو کوئی سنجیدہ لے۔

دلیل اور بحث و مباحثہ نام کی چیز ہی ختم ہوگئی ہے، دلیل کے ذریعے کسی کو قائل کرنا ناممکن ہوچکا ہے، اگر آپ کسی اسکے پسندیدہ لیڈر کے پرانے بیانات، ویڈیو، تصویریں یا شواہد بھی دکھائیں گے تو وہ قائل نہیں ہوگا کیونکہ دلیل پر جذبات غالب آچکے ہیں، آپ اسکو تین گھنٹے لگا کر قائل کرنے کی کوشش کریں، ہزار دلیلیں دیں وہ پھر بھی کہے گا تم چور کے حامی ہو میرا لیڈر جو کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔

نفرت کی آگ ایسی پھیلی ہے کہ اب کنٹرول ہونے کا نام نہیں لے رہی، نفرتیں اس تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں کہ وہ لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا بھی پسند نہیں کر رہے ہیں، معاشرے میں عدم تشدد اور عدم برداشت اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے، اسوقت کسی ایک لیڈر کے پاس بھی ایسا پانی دستیاب نہیں کہ وہ اس نفرت کی آگ پر ڈال کر اسکو بجھا سکے، ہاں ہر دوسرا لیڈر اس آگ مزید بھڑکانے کی کوشش لازمی کر رہا ہے۔

پہلے لوگوں کو روٹی،کپڑے کی فکر تھی اب وہ فکر ایسے ذہن سے غائب ہو گئی ہے جیسے غریب کے گھر سے آٹا غائب ہو گیا ہے، آپ رکشہ، بس، پٹرول پمپ، سبزی والا، پرچون والا سے لے کر فائف سٹار ہوٹلوں تک سیاسی نفرتیں پہنچ چکی ہیں، ہر جگہ اپنے مسائل کے بجائے سیاسی لیڈرشپ موضوع بحث ہوگی، جو لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے اور جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اسوقت دونوں ذہنی طور پر ایک جیسی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے حامل ہو چکے ہیں۔پہلے لوگ چور ڈاکو کا نام تب ہی کبھی لیتے تھے جب کسی کے گھر میں چوری ہوتی یا کوئی دن دیہاڑے ڈاکہ پڑ جاتا تھا لیکن اب چور،ڈاکو کے الفاظ تکیہ کلام بن چکے ہیں، کوئی قومی دولت کا چوراور کوئی گھڑی چور ہے، گلی محلوں کے چور اور دل کے چور بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔

پہلے عاشق معشوق ایک دوسرے کو ازرائے محبت دل چوری کرنے کا طعنہ دیتے تھے لیکن اب ایسے طعنے تو شعر و شاعری سے بھی ختم ہو گئے ہیں، پیار اور محبت جیسے خوبصورت الفاظ معاشرے سے ایسے ختم ہو گئے ہیں جیسے ریڈیو کا دور ختم ہو گیا ہے، 75سال سے ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کا درست دیتے آ رہے ہیں لیکن وہ جملہ بھی کہنا بھول گئے ہیں ، شاید اب ہماری آنے والی نسلیں کوئی نئی تاریخ لکھیں گی جس میں صرف نفرت ہی نفرت نظر آئے گی، پیار،محبت اور رواداری کا ہمارے مستقبل سے شاید تعلق ٹوٹ چکا ہے، ہماری سمت کیا ہے ،ہم کیا کرنا چاہ رہے ہیں ،ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں ،ہم سے یہ سب کون کروا رہا ہے ،ہم سے فائدہ کون اٹھارہا ہے،ہم ان سوالوں کے متعلق سوچنا بھی گوارہ نہیں کررہے۔

اس نفرت کی آگ نے ہمارے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے، کیا پتہ شاید اس نفرت کی آگ میں ہمارے اپنے ہی جھلس جائیں؟ ہمیں اسکے انجام کی بھی پرواہ نہیں رہی جس معاشرے میں نفرت کا بازار گرم ہو اس معاشرے میں بہتری کے اثار دکھائی نہیں دیتے، ہاں وہ معاشرہ تباہ ضرور ہو جاتا ہے، شاید ہم جان بوجھ کرتباہی کی طرف جا رہے ہیں، کسی فکر نہیں جس آگ سے ہم دوسروں کو جلانے کی کوشش کر رہے ہیں شاید یہ آگ ہمارے اپنے گھر کو بھی لگ جائے گی۔

ہر کوئی انجام سے بے خبر نفرت کی آگ میں کود رہا ہے، اگر ہم کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں تو پھر ہم سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں کیونکہ اتنے لائق، فائق اور ذہین و فطین لوگوں میں مسیحا کا کیا کام ہے جو قوم اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کرے اس کے لیے نہ کوئی غیبی مدد آتی ہے اور نہ کوئی مسیحا آتا ہے۔

Saif Awan
بلاگر ایک صحافی ہیں جو گزشتہ 14سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں