گلگت (خصوصی نامہ نگار) — گلگت بلتستان کے شہریوں کو حاصل بارڈر پاس کی سہولت پر خدشات جنم لینے لگے ہیں۔ سوست ڈرائی پورٹ کسٹمز حکام نے بارڈر پاس کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعدد مسافروں کے پاس منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز سوست کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 1985ء کے باہمی معاہدے کے تحت جاری کیے گئے بارڈر پاسز بعض افراد اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو سرحدی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 14 اکتوبر 2025 کو چین سے آنے والی تین مسافر بسوں کے مسافروں نے کسٹمز حکام کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا، اپنے سامان کی تلاشی نہیں دی اور بغیر کلیئرنس کے سامان لے گئے، جو کسٹمز ایکٹ 1969 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ڈپٹی کلیکٹر نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ مسافروں کے بارڈر پاس فوری طور پر منسوخ کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی سفارش کی ہے۔
ادھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کی غلطی کی سزا پورے گلگت بلتستان کے شہریوں کو نہ دی جائے، کیونکہ بارڈر پاس مقامی عوام کے لیے معاشی اور تجارتی رابطوں کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
