46

پی ٹی آئی گلگت بلتستان کا احسن اقبال کے دورۂ گلگت پر شدید ردعمل

ن لیگ کی وفاقی حکومت پر “ترقی دشمنی” اور منصوبوں کی تباہی کے سنگین الزامات

گلگت (پریس ریلیز/اسٹاف رپورٹ) — پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے حالیہ دورۂ گلگت اور ان کے انتخابی بیانات کو “کھوکھلے نعرے” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ن لیگی حکومت کے گزشتہ تین سالہ دور میں گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کو منظم انداز میں روکنے کی ذمہ داری خود احسن اقبال پر عائد ہوتی ہے، جنہیں پی ٹی آئی نے ’’جی بی دشمنی کا ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد احسن اقبال کی سربراہی میں وفاقی پلاننگ ڈویژن نے گلگت بلتستان کے ترقیاتی فنڈز منجمد کر کے 400 ارب روپے مالیت کے وہ تمام منصوبے بند کر دیے جو بانی چیئرمین عمران خان کے ترقیاتی پلان کا حصہ تھے۔ ان منصوبوں میں گلگت–شندور روڈ، استور ویلی روڈ، شاہراہِ نگر، داریل–تانگیر ایکسپریس وے اور متعدد پاور پراجیکٹس شامل تھے۔

تحریک انصاف نے الزام عائد کیا کہ احسن اقبال نے غواڑی اور تھک نیاٹ پاور پراجیکٹس ختم کر دیے جبکہ عطاآباد اور ہینزل پاور پراجیکٹس بھی مؤخر کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں آج گلگت بلتستان شدید توانائی بحران کا شکار ہے۔ ترجمان کے مطابق ’’موجودہ تاریکیوں کے اصل ذمہ دار احسن اقبال اور ن لیگ ہیں۔‘‘

پی ٹی آئی جی بی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی سال سے گلگت بلتستان کی سالانہ اے ڈی پی کو بھی منجمد رکھا گیا، جس کے باعث سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کے قلیل دور میں شروع کیے گئے اربوں روپے کے منصوبے روک دیے گئے۔ پارٹی نے احسن اقبال کو ’’قومی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دو سال سے زائد عرصے میں ارکانِ اسمبلی کو ایک بھی نئی اے ڈی پی اسکیم کی اجازت کیوں نہ دی گئی؟

پارٹی نے بانی چیئرمین عمران خان کی خدمات بھی یاد دلائیں کہ انہوں نے کم وقت اور مشکل معاشی حالات کے باوجود جگلوٹ–سکردو روڈ، گلگت امراض قلب ہسپتال اور گلگت کینسر ہسپتال جیسے اہم منصوبے مکمل کروائے۔

بیان کے آخر میں پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کی سیاسی حیثیت ختم ہو چکی ہے، اور ’’وفاقی کابینہ سمیت مریم نواز اگر پوری قوت کے ساتھ بھی گلگت بلتستان آجائے تو بھی ن لیگ کی کامیابی ناممکن ہے۔‘‘ پارٹی نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں ’’فارم 47 کی رکاوٹیں توڑ کر گلگت بلتستان میں قیدی نمبر 804 کی حکومت قائم ہوگی۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں