58

گلگت میں سات جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئ تاہم حکومت کو پیش کردہ مطالبات کی منظوری تک تدفین مؤخر

گلگت میں گزشتہ روز سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہونے والے سات افراد کی نمازِ جنازہ مرکزی امامیہ مسجد گلگت میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں لواحقین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے بعد میتوں کو مسجد میں رکھا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق حکومت کو پیش کیے گئے مطالبات پر پیش رفت اور مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد جاں بحق افراد کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کی جائے گی۔
دوسری جانب امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گلگت شہر میں کرفیو نافذ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ماہِ رمضان اور ضروری امور کے پیش نظر دو مارچ کو دن بارہ بجے سے شام چار بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی۔ کرفیو کے باعث شہر کی بیشتر شاہراہیں سنسان رہیں جبکہ وقفے کے دوران بھی بڑی مارکیٹیں بند رہیں، البتہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے چند دکانیں کھلی دکھائی دیں۔ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی۔
ادھر سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے ہوم سیکرٹری، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شہر کا دورہ کیا۔ حکام نے امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں