Skip to content
Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Daily Rehbar Gilgit Baltistan

Primary Menu
  • صفحہ اول
  • آج کا اخبار
  • گلگت بلتستان
  • پاکستان
  • اہم خبریں
  • بین الاقوامی
  • تعلیم و صحت
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • کھیل و ثقافت
  • ویڈیوز
  • کالمز/ اداریہ
  • آج کے کالمز/ اداریہ

ظاہری اور باطنی وزن؟ تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود

Daily Rehbar اکتوبر 8, 2019
21_091547_reporter

بابا جی کہا کرتے تھے ہم ظاہر بین لوگ ہیں، ہم دوسروں کا صرف ظاہری وزن دیکھتے ہیں۔ ظاہری وزن کا مطلب ہے انسان کی ظاہری شخصیت، اس کی سماجی حیثیت، مرتبہ، دولت، اثر و رسوخ، ضرر رسانی کی صلاحیت وغیرہ لیکن بندے کا اصل وزن اس کے باطن سے تشکیل پاتا ہے۔ باطن سے مراد انسان کا خلوص، نیت، حرص و ہوس سے پاکیزگی، نیکی کا جذبہ اور حسن سلوک ہے۔ ہو سکتا ہے ایک بندے کا ظاہری وزن تین من ہو لیکن اس کا اصلی وزن تین پائو بھی نہ ہو۔ آپ نے ایسے دولت مند بھی دیکھے ہوں گے جن کی زندگی کا محور ہی صرف دولت ہوتا ہے۔ اُن کی دوستی، رشتے داری اور تعلق محض دولت سے ہوتا ہے اور وہ اپنے اُن قریبی عزیزوں، دیرینہ دوستوں اور رشتے داروں کو حقیر سمجھ کر درخور اعتنا نہیں سمجھتے جن کا دامن دنیا کی دولت سے تہی ہوتا ہے۔ وہ اگر اُن کو پہچاننے سے انکار نہ بھی کریں تب بھی ان سے نظریں چراتے اور سرد مہری برتتے ہیں۔ آپ نے ایسے بڑے عہدے اور مرتبے والے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو اقتدار یا اختیار کی کرسی پر بیٹھتے ہی پرانے دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں سے نظریں پھیر لیتے ہیں۔ دراصل یہ غرور اور تکبر کی علامتیں ہیں اور یہی انسانی کردار کو ناپنے کا صحیح پیمانہ ہیں۔ اسی لئے دولت، عہدے، اقتدار اور اثر و رسوخ کو آزمائش کہا جاتا ہے۔ آزمائش اس لئے کہ اس وادی میں قدم رکھتے ہی انسان کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسے باطنی ترازو میں تولا جاتا ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ اُس کا اصلی وزن کتنا ہے۔

مجھے زندگی میں لاتعداد لوگوں سے پالا پڑا اور بہت بڑی اکثریت کو حالات کے مطابق بدلتے دیکھا۔ جو انسان حالات بدلنے کے باوجود اپنی اصل پہ قائم رہے، اپنا رویہ خلوص اور اخلاق نہ بدلے اور تکبر کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دے وہ دونوں جہانوں میں عزت پاتا ہے اور اُس کا باطنی وزن جسمانی وزن سے کہیں زیادہ ہوتا ہے لیکن جو شخص وقت بدلتے ہی بدل جائے وہ دونوں جہانوں میں اپنا وقار کھو دیتا ہے۔ باطن میں غرور اور تکبر کے بیج اس وقت پھلنا پھولنا شروع ہوتے ہیں جب شیطان انسان کو یہ باور کرا دیتا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کی اپنی محنت، ذہانت اور کاریگری کا پھل ہے۔ یہی احساس اُس کے اندر احساس برتری اور پھر تکبر کا بیج بوتا رہے جس کی شیطان آبیاری کر کے رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے تمام رشتوں سے کٹ جاتا ہے۔

میرے ایک مہربان جن سے دوستی کئی دہائیوں پر محیط تھی، درمیانے درجے کے سرکاری ملازم تھے۔ اُن کا زیادہ وقت افسر شاہی سے تعلقات بنانے میں گزرتا تھا۔ اچانک اُن کا سویا ہوا مقدر جاگا اور اُنہیں ایک اعلیٰ عہدے پہ بٹھا دیا گیا۔ اب یہاں سے اُن کی اصلی شخصیت کی آزمائش شروع ہوئی۔ اعلیٰ عہدہ، لاکھوں میں تنخواہ اور سرکاری مراعات کی بارش میں وہ ماضی کو بھلا کر بلندیوں پہ جا بیٹھے۔ دیرینہ دوستوں اور کم تر عزیز و اقارب کو حقیر سمجھنے لگے۔ مجھ سے ایک روز ایک مشترکہ دوست نے پوچھا کہ کیا اُن سے رابطہ یا ملاقات ہے۔ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’انہیں عہدے اور اختیار کے ترازو میں تولا تو بہت ہلکا پایا۔ دو بار ملنے گیا تو اُن کے رویے، گفتگو اور سلوک میں تکبر کی جھلک نظر آئی۔ چنانچہ میں نے خاموشی اور لا تعلقی اختیار کر لی‘‘۔

دراصل زندگی میں کسی شے کو بھی ثبات نہیں۔ تعلقات، رشتے داریاں، دوستیاں حتیٰ کہ مفادات بھی بدلتے رہتے ہیں جن کا باطن دنیاوی آلائشوں اور حرص و ہوس سے پاک ہوتا ہے، وہ عام طور پر نہیں بدلتے۔ اسی خاصیت کو خلوص کہا جاتا ہے ورنہ میں نے وقت کے ساتھ لوگوں کو اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھا ہے کہ وہ اپنی ’’اصل‘‘ کو بھول جاتے ہیں اور اپنے ماضی سے فرار کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم دنیا دار بھی عجیب ہیں کہ جسے دولت، اثر و رسوخ، سماجی مرتبہ یا اقتدار و اختیار ملتا ہے اُس کے چاروں طرف مکھیوں کے مانند بھنبھنانے لگتے ہیں لیکن دل اُن کے احترام سے خالی ہوتا ہے۔ یہیں سے غیبت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بظاہر مفادات کے اسیر خوشامد کے ذریعے ’’عالی مرتبت‘‘ کی جھوٹی انا کی تسکین کرتے رہتے ہیں لیکن غیر حاضری میں خوب غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں بلکہ اُن کی حرکات و سکنات پر قہقہے لگاتے ہیں۔

یادش بخیر…میں ان صاحب کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب وہ میو اسپتال میں میڈیکل آفیسر تھے۔ پھر رجسٹرار بنے۔ نہایت مودب، سعادت مند اور مخلص انسان لگتے تھے۔ کئی مقامات پر اُنہیں ضرورت پڑی تو میں نے اُن کی مدد کی جس سے اُن کے کام بنے۔ کئی برس ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ وہ صبح و شام دو اسپتالوں میں مصروف رہتے تھے۔ چند برس قبل میرے گھٹنے میں درد اٹھا تو کسی مشترکہ مہربان نے علاج کے حوالے سے اُن کا ذکر کیا۔ خیال آیا کہ وہ تو برخوردار ہیں۔ اُنہیں فون کیا اور اپنی تکلیف کا ذکر کیا تو وہ نہایت کاریگری سے ٹال گئے تب پتا چلا کہ وہ ترقی پاتے پاتے پروفیسر بن چکے ہیں، دوسرے پروفیسروں کی مانند ہر شام نوٹوں کا تھیلا بھر کر گھر لے جاتے ہیں۔ شاندار بنگلہ خرید لیا ہے۔ بقول شخصے سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں ریٹائر ہو کر اُن کے لئے ’’ناکارہ‘‘ ہو چکا تھا۔ اُن کا ظاہری وزن ڈیڑھ من تھا لیکن جب باطن کے ترازو پہ تولا تو ڈیڑھ چھٹانک نکلا۔ اسی طرح میرے ایک محبی دوست صحافی تھے۔ جب اُن سے ملاقات ہوئی تو وہ رکشے کا کرایہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ اپنی کاریگری کے سبب تین دہائیوں میں ارب پتی ہو گئے، جب کہ اُن کے پرانے ساتھی ابھی تک ’’ہزار پتی‘‘ ہیں۔ مالی خوشحالی، اقتدار کی قربت، اثر و رسوخ، فن تعلقات سازی اور موقع پرستی نے اُن کے لب و لہجے میں تکبر اور احساس برتری پیدا کر دیا ہے۔ نفسانی خواہشات کے ترازو میں وہ منوں بھاری ہوں گے لیکن باطنی وزن چند کلو….

سچ یہ ہے کہ ہم ظاہر بیں لوگ اور نفس کے بندے ہیں، ہمیں کسی کے باطنی وزن سے کیا غرض؟

About The Author

Daily Rehbar

See author's posts

Post navigation

Previous: اگربلتستان یونیورسٹی مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کی سیاست کے نزر ہو گئے تو وزیر اعلٰی اور گورنر قوم کے مجرم ہونگے: ڈویژنل صدر غلام شہزاد آغا
Next: مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کا اعلان

Related Stories

20_091807_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

27؍ اکتوبر ایک انتہائی سیاہ دِن

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
download (3)
  • آج کے کالمز/ اداریہ

*گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعلی پنجاب کے اعلانات *”

Daily Rehbar اکتوبر 25, 2024
28_104458_reporter
  • آج کے کالمز/ اداریہ

’’جو چلا گیا اسے بھول جا‘‘ حسن نثار

Daily Rehbar اکتوبر 24, 2024

Connect with Us

Social menu is not set. You need to create menu and assign it to Social Menu on Menu Settings.

Trending News

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ news-reporter-breaking-بریکنگ-portrait-1775740910027 1
  • اہم خبریں
  • پاکستان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، خطے میں امن کوششوں کا جائزہ

Daily Rehbar اپریل 9, 2026
سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 2
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

سکردو حالیہ سرکاری املاک جلاؤ گھیراؤ واقعہ،محکمانہ انکوائری کے بعد 18 پولیس اہلکار برطرف

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 3
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ٹیکس چھوٹ پالیسی آن لائن درخواستوں کی تاریخ میں تیسری بار توسیع

Daily Rehbar اپریل 1, 2026
گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 4
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

گلگت بلتستان بھر میں تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کا اعلان

Daily Rehbar مارچ 31, 2026
مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید daily rehbar gb daily rahbar gilgit baltistan newspaper epaper of gilgit baltistan 5
  • اہم خبریں
  • گلگت بلتستان

مدینہ مارکیٹ گلگت یوٹیلٹی سٹور میں کروڑوں کی خرد برد، انچارج کو 20 سال قید

Daily Rehbar مارچ 30, 2026
Copyright © 2026 All rights reserved. | Daily Rehbar by North Soft.