38

زلزلے کیوں آتے ہیں؟ تحریر (محمد عنصر عثمانی)

انسانی تاریخ حوادث سے خالی نہیں۔ سائنس دان مذہب کا نظریہ مان چکے ہیں کہ دنیا کا اختتام بھی ایسے ہی ایک حادثے سے ہوگا۔ زمین جسے دھرتی ماں کہا جاتا ہے، کائنات کاایک ٹکرا ہے، خلامیں زمین سے کئی گناہ بڑے سیارے موجود ہیں، سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اگر خلا سے زمین پہ کچھ بھی گرِا یاٹکرایاتوزمین پر ہزاروں زلزلے آئیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے،سمندر حدودسے باہر آجائے گا، ہر طرف انسانی لاشوں کاانبار ہوگا۔ کیوں کہ جدید دنیا نے انسان کو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات کی کھوج لگانے میں ماہر بنادیا ہے اس لیے جدید سائنس بھی اس نقطے پہ متفق ہے کہ قیامت کا وقوع بھی حادثے کی شکل میں ہوگا۔ کرہ ارض پہ انسانی حوادث کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔

سائنس جن حادثات پر آج دلائل دے رہی ہے یہ وہی سب کچھ ہے جس کے بارے مذہب انسان کو بہت پہلے خبر دے چکاہے۔ دنیا میں 95 فیصد لوگ کسی بھی طرح خدا پہ یقین رکھتے ہیں، جس کے بعد ایک ہی نظریہ باقی رہتا ہے کہ جس طرح عالم کے تمام مذاہب قیامت کے واقع ہونے کو حادثے سے تشبیہ دیتے ہیں اور ایک نقطہ پہ متفق ہیں، اسی طرح دنیامیں آنے والے المناک انسانی سانحات کو بھی خدا کی طرف سے امتحان اور آزمائش سمجھنا چاہیے۔ کرہ ارض پر انسان کی بقاء کا ایک رستہ ہے کہ اسے انسان اپنی بداعمالیوں کی بھینٹ نہ چڑھائے،اس لیے کہ سائنس دانوں کا کہناہے انسان صرف زمین پہ سانس لے سکتا ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی جائے پناہ نہیں۔
قدرتی آفات انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو چشم زدن میں صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔ غیر معمولی حادثوں نے انسانی زندگی پہ دیرپا نقوش چھوڑے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں زلزلوں سے تقریباََ آٹھ کروڑ انسان جاں بحق ہو چکے ہیں۔

گذرے ڈیڑھ عشرے میں آنے والے زلزلوں سے بر اعظم ایشاء کے کئی ممالک متاثر ہوئے اوران میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اگرہم گزشتہ صدی کا تجزیہ کریں تو 1935 سے 1997 تک صوبہ بلوچستان میں کئی زلزلے آئے،

جن میں 35 ہزار افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،پھر اس صدی کے شروع میں یعنی 26 دسمبر 2004 کو سماترا کے سمندری تہوں میں زلزلہ آیا جس نے سونامی کی شکل اختیار کی اوراس سونامی نے دولاکھ انسانوں کو نگل لیا،اس کے بعد اگلے سال آٹھ اکتوبر 2005 کو پاکستان میں آنے والازلزلہ تباہ کن ثابت ہوا،کئی لاکھ لوگ بے گھرہوئے۔ سیلاب، طوفان، وبائی امراض کے اثرات صدیوں تک موجود رہتے ہیں، لیکن زلزلوں سے پیدا ہونے والی صورت حال زیادہ تشویشناک اس لیے ہے کہ انسان پرزلزلے کا حزن سانس کی ڈوری ٹوٹنے تک رہتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ زلزلے سے متاثرہ افراد برسوں تک ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں اور زلزلے کے اثرات سے پژمردگی کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں۔ آٹھ اکتوبر 2005 کو پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں آنے والے زلزلے نے ہزارہ ڈویژن سمیت کشمیر، اسلام آباد میں قیامت خیز تباہی پھیلائی تھی، جس میں 73000 افراد قیامت صغریٰ کی نظر ہوئے تھے، وہ ہلاکت خیز مناظر آج تک دماغی اسکرین سے نہیں گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو زلزلے آتے ہیں ان سے سب سے زیادہ خطرہ صوبہ بلوچستان کو ہے، ماضی کے اعداد وشمار سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اب تک آنے والے زلزلوں کی مجموعی تعداد میں صوبہ بلوچستان زیادہ متاثر رہاہے۔1935 میں آنے والے زلزلے نے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کو زمین سے ملا دیا تھا۔ ساٹھ ہزار افراد ہلاک اوربہت زیادہ مالی نقصان ہوا تھا۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقے سب سے زیادہ زلزلوں کا شکار ہوتے ہیں،ان زلزلوں کی وجہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ زیر زمین تہوں میں ایرانی،افغانی انڈین”ٹیکٹونک پلیٹیں“ایک جیسی ہیں،جو پلیٹ بھارت کی زیزر زمین تہ سے گزرتی ہے

وہی پلیٹ پاکستان،نیپال کے زیر زمین تہوں میں بھی موجود ہے۔ ان زلزلو ں کے نتیجے میں بلوچستان سے افغانستان کی سرحد تک کا علاقہ لپیٹ میں آتا ہے،اس لیے اکثر ان علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ گلوبائزیشن اور ترقی یافتہ ممالک نے قدرتی آفات سے بچنے اور زیادہ سے زیادہ آبادیوں کو محفوظ رکھنے کے کوششیں کی ہیں اور اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں،زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان پانی کی پائپ لائنوں کا ہوتا ہے۔زلزلے کی وجہ سے لائنیں پھٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے تباہ حال جگہوں تک پانی کی رسائی ممکن نہیں ہوتی، بڑی بڑی دیوہیکل عمارتوں کو بچانے اور زلزلے سے محفوظ رکھنے کی 100 فیصد کامیابی حاصل کر لی گئی ہے

لیکن اس معاملے میں متاثرین زلزلہ کی بحالی پر ٹھوس اقدامات کرنا باقی ہیں۔ان اقدامات میں اہم متاثرین کے لیے بھیجی گئی امداد کا صحیح مصرف اوربیرونی امداد سے فلاح بہبود کے کاموں میں مبینہ لوٹ کھسوٹ کے روشن دان بند کرنا ہیں۔دیکھا جاتا ہے کہ ایسے حادثات میں حکومتیں امداد کا پچاس فیصد بھی خرچ نہیں کرتیں،جس کی وجہ سے بحران اپنی آخری حدوں تک پہنچ جاتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ مستحقین کے لیے بھیجی جانے والی بیرونی امداد اور عوامی جذبہ سے جمع کروائی گئی امداد کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کا مربوط نظام قائم کرے۔اگر ہم قدرتی آفات آنے پر انسانی تکلیف کے موقع پر اپنی سیاست کو چکاتے رہے اور مستحقین کا حق مارتے رہے تو زمین پر زلزلے آئیں گے اور یہ حادثات ہمارے طرز عمل کا نتیجہ ہوں گے۔اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر ہمیں نتیجے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

نوٹ: روزنامہ رہبر گلگت بلتستان اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ
rahbargb@gmail.comپر ای میل کردیجیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں