58

استاد تجھے سلام تحریر : ابرار حسین استوری

دنیا بھر میں 5 اکتوبر کو استاد کا عالمی دن منایا گیا تو اس دن کی اہمیت اور افادیت جو اس معاشرے کے ہر فرد کو ہے اور ہونی بھی چاہیے، کیونکہ استاد ہمارے لئے رول ماڈل اور روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں. والدین کے بعد اگر کسی نے ہمیں زندگی میں اس قابل بنایا ہے کہ ہم آج معاشرے کے پڑھے لکھے اور سمجھ داروں میں شامل ہیں تو وہ ہیں اساتذہ،،، یہاں اس دن کی اہمیت کا اندازہ لگانا اتنا آسان تو نہیں مگر اپنے ان اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے اور انہیں سلام پیش کرنے کیلئے حقیر سے الفاظ جو مجھ جیسے انسان کو معاشرے کا اچھا فرد بنایا اور تعلیم یافتہ لوگوں کی صف میں شامل کرایا. یوں تو پہلی جماعت سے ایم ایس سی (ماسٹر) تک بہت سارے اساتذہ کا کردار رہا ہے مگر وہ وقت بہت خوبصورت تھا جب ہمیں الف اور ب سکھایا جاتا تھا وہ استاد ہمارے لئے سب سے زیادہ قابل احترام ہیں،، سکول میں جب داخلہ کرایا گیا تو شروع میں شیرنادر استاد جو بہت زیادہ شفیق اور مخلص جنہوں نے الف اور ب کی پہچان کرائی، اپنائیت اور علم کی جستجو سکھائی. کچھ کلاسیں پڑھ کر آگے بڑھے تو ریاض استاد جو تمام تر خوبیوں میں شیرنادر استاد کے ثانی تھے کھبی شفقت سے ہمیں پڑھاتے تھے تو کھبی چھڑی کے زور سے ڈراتے تاکہ ہم کچھ پڑھ لکھ کر معاشرے کے اچھے انسان بن سکیں،،

ان دونوں استادوں نے پانچویں کلاس تک جو انسان کی ابتداء ہوتی ہے اس میں وہ سبق سکھایا آج بھی ان اساتذہ کو سرخ سلام ہے، ان دونوں اساتذہ کے دور میں ہیڈ ماسٹر سرور استاد ہوتے تھے جن کا بس نام ہی کافی ہوتا تھا،،،

دنیا بھر کی شرارتیں اور حرکتوں کے بعد جب ہیڈ ماسٹر سرور کا نام سنتے تھے تو کانپ اٹھتے تھے،،، یقین مانیں شاید آج کے دور میں اسے بہت غلط سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کو مارنا اور ڈرانا غلط ہے مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں آج ہم اس قابل ہیں تو ان کی محبت، شفقت کیساتھ ان کا بھرم اور خوف بھی شامل ہے جس کے ڈر سے ہم اپنی پڑھائی پر توجہ دیتے تھے اور برے کاموں سے بچے رہتے تھے اسی طرح جب پانچویں پاس کر کے چھٹی کلاس میں پہنچے تو استاد تو بہت سارے تھے جنہوں نے ہمیں علم جسیے حسین زیور سے آراستہ کیا مگر جو دل میں نقش کر جائیں وہ استاد جنہوں نے مجھ جسیے کمزور اور نالائق طالب علم کو کھبی محبت شفقت اور کھبی ڈانٹ پیٹ سے علم کی حقیقت سے روشناس کرایا وہ تھے “ہیڈ ماسٹر غلام نور استاد” جیسے میں اپنی زندگی کی کامیابیوں کا سو فیصد کریڈٹ دیتا ہوں کیونکہ کلاس میں سب سے چھوٹا ہونے اور پھر نالائق ہونے کے باجودغلام نور استاد نے مجھے وہ حوصلہ دیا جیسے میں کھبی فراموش نہیں کر سکتا،، میرے استاد محترم کی محبت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ سکول کی چھٹی کے بعد بھی مجھے اسپیشلی سبق پڑھاتے تھے شاید اس کی وجہ میرے والد سے استاد محترم کے زاتی تعلقات بھی تھے مگر میں بھی ان کی گڈ بک کا حصہ تھا،، کھبی کھیل کے گرونڈ میں سپورٹ کرتے تو کھبی سکول ٹائم سے ہٹ کر بھی پڑھائی کراتے ،،، ایسے شفیق اور قابل احترام استاد کو سلیوٹ جس نے جینے کا ہنر سکھایا،،، یہاں بات میرے ان استادوں کا بھی جو میرے محسن رہے جن کی بدولت آج اس مقام پر ہوں،، محترم عبداللہ استاد جو نہایت مزاحیہ اور منفرد کھبی چھڑی سے مارتے تو کھبی چٹکلے اور ہنسی مذاق سے پڑھاتے پھر زکر ہو اس استاد کا جنہوں نے مجھے ریاضی میں ایک نیی جدت دی کیونکہ ریاضی میرا پسندیدہ سبجکیٹ تھا وہ تھےحکیم استاد محترم بڑی شفقت اور محبت کیساتھ ساتھ مزاحیہ مزاج کے مالک تھے، اور جب عربی پڑھانے کی بات آجائے تو ظہیر استاد سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور سب سے منفرد دو ایسے استاد جو اس وقت بغیر تنخواہ کے اس سوچ میں ہمیں پڑھاتے تھے کہ کسی دن ان کو محکمہ تعلم پرمننٹ کر دے وہ تھے شبیر استاد اور شابان استاد جنہوں نے ہمیں علم سے روشناس کرانے میں اہم. کرادر ادا کیا. اس دن کی مناسبت سے آج خوشی اس بات کی ہے کہ وہ دونوں اساتذہ شبیر استاد اور شابان استاد کو مستقل کر دیا گیا جو آج بھی علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں. یہاں دنیاوی علم کا زکر تو رہا مگر حقیقی علم کی بات ہو تو ایک ایسا نام جو مجھ سمیت میری فیملی کے تقریبا سب ان کے شاگردوں میں تصور ہوتے ہیں،

اخوند حیدر بھائی(حقیقی علم کے استاد) جنہوں ہمیں دین اور دنیا کے درمیان حقیقت سے روشناس کرایا جنہوں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرآن مجید کے تیس پاروں سمیت دین سے روشناس کرایا. بغیر کسی تنخواہ اور لالچ کے روزانہ صبح 6 بجے قرآن پڑھاتے تھے اور اس رب العزت کی عطاء اور اخوند حیدر بھائی جنہیں بھائی کہتے تھے وہ خلوص اور محبت سے قرآن مجید کے علم سے روشناس کرایا جو ہماری حقیقی یعنی ابدی زندگی کا سرمایہ ہے،، اللہ تعالیٰ تمام اساتذہ کرام کو لمبی عمر اور صحت کاملہ عطا فرمائے،، آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں