280

گوگل Google،،،،، تحریر :محمد رضا حیدری آئی ٹی ٹیچر ایجوکیشن دپارٹمنٹ گلگت بلتستان

گوگل (Google)ایک امریکی ملٹی نیشنل ادارہ ہے اس کا قیام 1998میں عمل میں لایا گیا۔لیری پیچ (Larry Page)اور سرگرے برن (Surgrey Brin) نے گوگل بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔1996یہ دونوں سٹینفورڈ یونیورسٹی کیلی فورنیا میں پی ایچ ڈی(Ph-D) کے طالب علم تھے۔ گوگل کمپنی کے موجودہ ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ گوگل انٹر نیٹ کے اوپر صارفین کو مختلف موضوعات پر معلومات اور درکار مواد تلاش کر کے دیتا ہے جسکو انٹرنیٹ کی اصطلاح میں سرچ انجن(Search Engine) کہا جاتا ہے۔گوگل اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن(Search Engine)ہے۔سرچ انجن کے بغیرانٹر نیٹ پر کسی بھی قسم کے مواد کو تلاش نہیں کر سکتے۔ Google,Yahoo,Bing,MSN۔ وغیرہ اس وقت کے چند اہم بڑے سر چ انجن میں شمار ہوتا ہے۔ گوگل کے ہیڈ کوارٹر کو (Google Plex)کہا جاتا ہے جو کہ کیلی فورنیا امریکہ میں واقع ہے۔گوگل تقریبا95 فیصد آمدنی اشتہارات کی مد میں حاصل کرتے ہیں۔
گوگل کمپنی (Google Company)کا موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر(CEO) سندر پچائی(Sunder Pichai) ہے جسکا تعلق ہندوستان سے ہے 2015 سے یہ بطور سی ای او (CEO)کام کر رہا ہے 12جولائی 1972کو پیدا ہونے والا سندر پچائی(Sunder Pichai)نے ابتدائی تعلیم بھارت سے ہی حاصل کی۔اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اسوقت گوگل کا سی ای او(CEO) سندر پچائی(Sunder Pichai)روزانہ ساڑے تین کڑور (Rs.35000000)پاکستانی روپے گوگل سے تنخواہ لیتے ہیں اور دنیا کا سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم ہے۔گوگل اپنے صارفین کو مختلف خدمات مہیا کر رہی ہے جس میں (Google Map) گوگل میپ (G-Mail)گوگل میل (Google Plus)گوگل پلس(Google Drive) گوگل ڈرایؤ (Google Earth) گوگل ارتھ (Youtube) یوٹوب (Google Adsene (گوگل ایڈسن (Google Play) گوگل پلے وغیرہ شامل ہیں
گوگل نے ترقی اسوقت کی جب اس نے چھوٹے بڑے مختلف اداروں کو خرید کر اپنے صارفین تک خدمات منتقل کیا۔گوگل ارتھ جو کہ ایک مشہور سروس ہے کو2004میں گوگل نے خریدا۔اس سے پہلے گوگل ارتھ (Earth View)کے نام سے جانا جاتا تھا۔سیٹلائیٹ کی مدد سے گوگل ارتھ(Google Earth) کے زریعے ہم دنیا کے کونے کونے بھی تصویری شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ گوگل نے 2006میں لاسٹ سافٹ وئیر(Last Software) نامی ادارے کو بھی خریدا جسکو گوگل نے خرید کر سکیچ اپ(Google Sketchup) کا نام دیا اور صارفین کو سروس دینا شروع کیا۔
گوگل نے 2006میں یوٹوب (Youtube) نامی ادارے کو بھی ایک ارب ساٹھ کڑوڑ ڈالر ($1600,000,000)کے عوض خریدا۔ یوٹوب (Youtube)اس وقت دنیاکاسب سے بڑا ویڈیو سٹریمنگ(Video Streaming) اپلیکیشن ہے جس سے کڑوڑوں لوگ مختلف ویڈیوز اور اشتہارات کے زریعے پیسے کما رہے ہیں۔Googleگوگل کا جی میل(G-Mail) سروس اس وقت انتہائی مشہور ہے جس کے زریعے آسانی سے بیک وقت ایک یا ایک سے زیادہ لوگوں تک مختلف پیغامات بھیج سکتے ہیں۔
گوگل پلے سٹور(Google Play Store) جس سے آج کل تمام بچے بھی واقف ہیں یہ بھی گوگل کمپنی کا ایک خاص سروس ہے جو کہ اینڈروایڈ(Andriod) موبائل صارفین کو تمام اقسام پر مشتمل موبائل اپلکیشن فراہم کرتا ہے گوگل پلے کا پرانا نام(Andriod Marcket) تھا جس کو2008میں متعارف کروایا تھاجسکا نام 2012 میں تبدیل کر کے گوگل پلے رکھ دیا. (Andriod)اینڈروائڈ موبائل صارفین کے لئے گوگل پلے پر مختلف گیمز،میوزک،کتابیں،میگزین،تعلیمی و صحت،اورگرافکس کے اپلکیشن و دیگر بے شمار خوبصورت اپلکیشن موجودہیں جہاں سے آسانی سے ڈاون لوڈ کیا جا سکتا ہے یا آن لائن انسٹال بھی کر سکتے ہیں۔گوگل پلے پر اسوقت تقریبا (3.5 million) ساڑھے تیس لاکھ کے لگ بگ موبائل ا پلکیشنز دستیاب ہیں۔
گوگل کا ایک منفرد سروس جسکو گوگل ڈرائیو (Google Drive)کہا جاتا ہے اور اس سے زیادہ تر انٹرنیٹ صارفین واقف نہیں ہیں۔گوگل ہر جی میل(G-Mail) اکاونٹ پر 15گیگا بائٹ(15 GB) تک فری ڈیٹا سٹوریج سروس فراہم کر رہا ہے۔عام لفظوں میں (Google Drive)پر ہم جی میل(G-Mail) اکاونٹ کی مدد سے ضروری معلومات،تصاویر،ویڈیوز وغیرہ محفوظ رکھ سکتے ہیں اور آسانی سے کسی بھی وقت ان دیٹا کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور ڈاون لوڈ (Download)بھی کر سکتے ہیں۔اور اسی ڈیٹا کو مختلف لوگوں میں شئر بھی کر سکتے ہیں۔آن لائن مایئکرسوفٹ(Microsoft Office) آفس کی سروسز کو بھی گوگل ڈرائیو کی مدد سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔کاروباری حضرات،اور مختلف ادارے گوگل کی اس سروس سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
گوگل جہاں نے شمار فائدے اپنے صارفین تک پہنچا رہے ہیں وہیں گوگل دوسری جانب فحشگاری پھیلانے کا بھی سب سے بڑا زریعہ ہے اور گوگل پر عام طور پر یہ شک بھی کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی جاسوسی ادارے کو مختلف معلومات فراہم کرتا ہے۔گوگل سرچ انج کے مقابلے میں
بل گیٹس (Bill Gate)کے ما یکروسوفٹ کمپنی (Microsoft)نے اپنا ایک سرج انجن بنایا جس کا نام (Bing) رکھا گیا لیکن مائیکررسوفٹ(Microsoft) کے اس سرچ انجن کو ابھی تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو سکا۔ گوگل سرچ انجن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سرچ بار میں ہم جوں ہی کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی دوران گوگل ہمیں اسی سے متعلق خود سے مختلف معلومات کی فہرست دکھاتے ہیں جس کو کی ورڈ (keyword) کہا جاتا ہے۔
اسوقت گوگل دنیا کے کامیاب ترین ملٹی نیشنل کمپنی میں شمار ہوتا ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مستقبل قریب میں گوگل پوری دنیا میں بڑی تعداد میں بغیر ڈرائیور کار(Driver Less Car) متعارف کرنے جا رہا ہے۔ اس بارے میں تیزی سے تحقیق(Research) جاری ہے گوگل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں بغیر ڈرائیور کار (Driver Less Car)کے آنے کے بعد پوری دینا میں ایک انقلاب آئیگا اور اس کار کی ایک خوبی یہ ہوگی کہ 99 فیصد تک حادثات کم ہونگے۔ اس کار کو کسی ڈرائیور یا ہدایت کارکی ضرورت نہیں پڑے گی۔سیٹیلائٹ اور سافٹ ویر (Software)کی مدد سے کار خود سے ڈرائیو کرے گی۔ کار کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ زیادہ ٹریفک کی وجہ سے مسافروں کو ٹریفک میں انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ کار میں موجود ڈیواسز(Devices) اس حد تک انٹیلجنٹ(Intellegent) یعنی ماہر،قابل ہونگے کہ کیمرا،میپ اور سیٹلائیٹ کی مدد سے متبادل راستہ کا انتخاب کر سکے۔ اور یوں مسافروقت ضائع کیے بغیر منزل پر پہنج جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں