38

ظاہری اور باطنی وزن؟ تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود

بابا جی کہا کرتے تھے ہم ظاہر بین لوگ ہیں، ہم دوسروں کا صرف ظاہری وزن دیکھتے ہیں۔ ظاہری وزن کا مطلب ہے انسان کی ظاہری شخصیت، اس کی سماجی حیثیت، مرتبہ، دولت، اثر و رسوخ، ضرر رسانی کی صلاحیت وغیرہ لیکن بندے کا اصل وزن اس کے باطن سے تشکیل پاتا ہے۔ باطن سے مراد انسان کا خلوص، نیت، حرص و ہوس سے پاکیزگی، نیکی کا جذبہ اور حسن سلوک ہے۔ ہو سکتا ہے ایک بندے کا ظاہری وزن تین من ہو لیکن اس کا اصلی وزن تین پائو بھی نہ ہو۔ آپ نے ایسے دولت مند بھی دیکھے ہوں گے جن کی زندگی کا محور ہی صرف دولت ہوتا ہے۔ اُن کی دوستی، رشتے داری اور تعلق محض دولت سے ہوتا ہے اور وہ اپنے اُن قریبی عزیزوں، دیرینہ دوستوں اور رشتے داروں کو حقیر سمجھ کر درخور اعتنا نہیں سمجھتے جن کا دامن دنیا کی دولت سے تہی ہوتا ہے۔ وہ اگر اُن کو پہچاننے سے انکار نہ بھی کریں تب بھی ان سے نظریں چراتے اور سرد مہری برتتے ہیں۔ آپ نے ایسے بڑے عہدے اور مرتبے والے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو اقتدار یا اختیار کی کرسی پر بیٹھتے ہی پرانے دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں سے نظریں پھیر لیتے ہیں۔ دراصل یہ غرور اور تکبر کی علامتیں ہیں اور یہی انسانی کردار کو ناپنے کا صحیح پیمانہ ہیں۔ اسی لئے دولت، عہدے، اقتدار اور اثر و رسوخ کو آزمائش کہا جاتا ہے۔ آزمائش اس لئے کہ اس وادی میں قدم رکھتے ہی انسان کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسے باطنی ترازو میں تولا جاتا ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ اُس کا اصلی وزن کتنا ہے۔

میرے ایک مہربان جن سے دوستی کئی دہائیوں پر محیط تھی، درمیانے درجے کے سرکاری ملازم تھے۔ اُن کا زیادہ وقت افسر شاہی سے تعلقات بنانے میں گزرتا تھا۔ اچانک اُن کا سویا ہوا مقدر جاگا اور اُنہیں ایک اعلیٰ عہدے پہ بٹھا دیا گیا۔ اب یہاں سے اُن کی اصلی شخصیت کی آزمائش شروع ہوئی۔ اعلیٰ عہدہ، لاکھوں میں تنخواہ اور سرکاری مراعات کی بارش میں وہ ماضی کو بھلا کر بلندیوں پہ جا بیٹھے۔ دیرینہ دوستوں اور کم تر عزیز و اقارب کو حقیر سمجھنے لگے۔ مجھ سے ایک روز ایک مشترکہ دوست نے پوچھا کہ کیا اُن سے رابطہ یا ملاقات ہے۔ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’انہیں عہدے اور اختیار کے ترازو میں تولا تو بہت ہلکا پایا۔ دو بار ملنے گیا تو اُن کے رویے، گفتگو اور سلوک میں تکبر کی جھلک نظر آئی۔ چنانچہ میں نے خاموشی اور لا تعلقی اختیار کر لی‘‘۔

دراصل زندگی میں کسی شے کو بھی ثبات نہیں۔ تعلقات، رشتے داریاں، دوستیاں حتیٰ کہ مفادات بھی بدلتے رہتے ہیں جن کا باطن دنیاوی آلائشوں اور حرص و ہوس سے پاک ہوتا ہے، وہ عام طور پر نہیں بدلتے۔ اسی خاصیت کو خلوص کہا جاتا ہے ورنہ میں نے وقت کے ساتھ لوگوں کو اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھا ہے کہ وہ اپنی ’’اصل‘‘ کو بھول جاتے ہیں اور اپنے ماضی سے فرار کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم دنیا دار بھی عجیب ہیں کہ جسے دولت، اثر و رسوخ، سماجی مرتبہ یا اقتدار و اختیار ملتا ہے اُس کے چاروں طرف مکھیوں کے مانند بھنبھنانے لگتے ہیں لیکن دل اُن کے احترام سے خالی ہوتا ہے۔ یہیں سے غیبت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بظاہر مفادات کے اسیر خوشامد کے ذریعے ’’عالی مرتبت‘‘ کی جھوٹی انا کی تسکین کرتے رہتے ہیں لیکن غیر حاضری میں خوب غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں بلکہ اُن کی حرکات و سکنات پر قہقہے لگاتے ہیں۔

یادش بخیر…میں ان صاحب کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب وہ میو اسپتال میں میڈیکل آفیسر تھے۔ پھر رجسٹرار بنے۔ نہایت مودب، سعادت مند اور مخلص انسان لگتے تھے۔ کئی مقامات پر اُنہیں ضرورت پڑی تو میں نے اُن کی مدد کی جس سے اُن کے کام بنے۔ کئی برس ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ وہ صبح و شام دو اسپتالوں میں مصروف رہتے تھے۔ چند برس قبل میرے گھٹنے میں درد اٹھا تو کسی مشترکہ مہربان نے علاج کے حوالے سے اُن کا ذکر کیا۔ خیال آیا کہ وہ تو برخوردار ہیں۔ اُنہیں فون کیا اور اپنی تکلیف کا ذکر کیا تو وہ نہایت کاریگری سے ٹال گئے تب پتا چلا کہ وہ ترقی پاتے پاتے پروفیسر بن چکے ہیں، دوسرے پروفیسروں کی مانند ہر شام نوٹوں کا تھیلا بھر کر گھر لے جاتے ہیں۔ شاندار بنگلہ خرید لیا ہے۔ بقول شخصے سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں ریٹائر ہو کر اُن کے لئے ’’ناکارہ‘‘ ہو چکا تھا۔ اُن کا ظاہری وزن ڈیڑھ من تھا لیکن جب باطن کے ترازو پہ تولا تو ڈیڑھ چھٹانک نکلا۔ اسی طرح میرے ایک محبی دوست صحافی تھے۔ جب اُن سے ملاقات ہوئی تو وہ رکشے کا کرایہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ اپنی کاریگری کے سبب تین دہائیوں میں ارب پتی ہو گئے، جب کہ اُن کے پرانے ساتھی ابھی تک ’’ہزار پتی‘‘ ہیں۔ مالی خوشحالی، اقتدار کی قربت، اثر و رسوخ، فن تعلقات سازی اور موقع پرستی نے اُن کے لب و لہجے میں تکبر اور احساس برتری پیدا کر دیا ہے۔ نفسانی خواہشات کے ترازو میں وہ منوں بھاری ہوں گے لیکن باطنی وزن چند کلو….

سچ یہ ہے کہ ہم ظاہر بیں لوگ اور نفس کے بندے ہیں، ہمیں کسی کے باطنی وزن سے کیا غرض؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں