42

گلگت(پریس ریلیز) ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان و سینئر رہنماءپاکستان تحریک انصاف راجہ جہانزیب خان نے کہا ہے کہ میں نے صوبائی حکومت کو سولات کیے تھے جن کی جواب دینے کی طاقت صوبائی حکومت کے پاس نہیں، میرا سوال ہے صوبائی حکومت سرتاج عزیز کمیشن کے آوٹ پوٹ کے بارے میں عوام کے سامنے لائیں

پانچ  سال کے اندر سرتاج عزیز نے گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے لیے کیا کارکردگی دکھائی ہے، ہماری واضح موقف پہلے بھی تھی اور اب بھی عبوری آئینی حیثیت ہے، ہم نے عبوری آئینی حیثیت کے لیے کام کا آغاز کیا تھا اور کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کیے تھے، لیکن صوبائی حکومت نے ایک سوچے سمجھے سیاسی انتقام اور سیاسی سکورکیلئے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ دوکھا دیا ہے، ہم نے گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے حوالے سے بہترین عوامی نمائندگی کی تھی لیکن ن لیگ کی صوبائی حکومت نے اس مسئلے کو کورٹ میں کیوں لے گئے ، اب یہ لوگ سرتاج عزیز کمیشن کے رونا رو رہے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت بارے میں فیصلہ غیر معینہ مدت کیلئے التواع کردیا ہے اب جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آجا تا تب تک ن لیگ کی صوبائی حکومت عوام اور اپوزیشن کو جواب دہ ہے، عمران خان گلگت بلتستان کو آئینی عبوری حیثیت کے حق میں تھا لیکن اب معاملہ سپریم کورٹ میںچلا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے الزامات نہیں لگائے بلکہ سوال کیا تھا جو کہ ہماری قانونی حق ہے ، عمران خان نے نواز ،زرداری اورگیلانی کی طرح عوام کو سبز باغ نہیں دیکھائے بلکہ عوام کے فلاح بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی منظوری دیکر گئے ، عمران خان نے گلگت بلتستان کے عوام کو 34ارب کے اعلانات کرکے گئے ہیں ، جن میں ہائیڈروپروجیکٹس ، ایگرکلچرل سیکٹر سمیت سیاحت کے فروغ کیلئے اعلانات کرکے گئے ہیں، انہوں نے کہاکہ دورہ وزیر اعظم عمران خان انتہائی کامیاب رہا ، تاریخ میں عوامی اجتماع میں انتے لوگ نہیں آئے تھے جتنے عمران خان کے دورہ کے موقع پر آئے تھے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اب گلگت بلتستان کے عوام بھی عمران خان کے ویژن اور منشور کو پسند کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کو زرداری حکومت اور نواز لیگ نے کچھ نہیں دیا اب تک عوامی محرومیوں کا ازالہ نہیں کر سکیں ہیں ، اب ن لیگ کی حکومت چوری اوپر سے سینہ زوری کرنے پہ تلے ہیں لیکن اب انکا اصلی چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے کہ عوام کے حقوق کو پہلے ڈاکہ ڈالتے ہیں اور بعد میں الزامات دوسروں پر ڈالتے ہیں ، اب انشاءاللہ گلگت بلتستان بھی نیا گلگت بلتستان بنے تھا اور عوام کو خوشحالی کی طرف گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں