27

شہید ضیاء الدین قتل کیس عدالتی کمیشن سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ،آئینی حقوق کیلئے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ء ہونے کی ضرورت ہے، آغا راحت

گلگت(جنرل رپورٹر)مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت میں مدافع ولایت شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی اور ان کے باوفا رفقاء کی 17ویں برسی کی مناسبت سے مرکزی اجتماع میں گلگت بلتستان بھر سے علماء،اکابرین زعما۔ سیاسی مذہبی و سماجی شخصیات سمیت ہزاروں کی تعداد میں مومنین نے شرکت کرکے ان کی گلگت بلتستان کے لیے قومی۔ مذہبی۔ سیاسی و سماجی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا تعزیتی اجتماع میں مرکزی امامیہ کونسل گلگت بلتستان کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کا اعلان خوش آئند ہے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کو قومی اسمبلی میں نمائندگی کے ساتھ سینٹ میں دیگر صوبوں کے برابر نمائندگی دی جائے اور بڑھتی ہوئی ابادی کے پیش نظر نئی حلقہ بندیاں کی جائے خالصہ سرکار کے کالے قانوں کا اطلاق صرف شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونا حکومت اور انتظامیہ کی بدنیتی کو ظاہر کرتا لہزا ملت جعفریہ کو اپنی ملکیتی زمینوں سے بے دخل کرنے کی حکومت اور انتظامی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہے جبکہ شہید سید ضیاء الدین رضوی قتل کیس کی تمام عدالتی کارروائی جانبدارانہ اور غیر منصفانہ ہے لہزا اسے مسترد کرتے ہوئے از سر نو غیر جانبدارانہ عدالتی کمیشن سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتا ہے نیز یکساں قومی نصاب کی تدوین کے دوران تمام مکاتب فکر کے تحفظات کی دوری کو یقینی بنایا جائے، تعزیتی اجتماع سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سانحہ 13 اکتوبر کیس میں گرفتار بے گناہ اسیروں کو فوری رہا کیا جائے نیز جیل میں قید بیمار اسیروں کا سرکاری سطح پر علاج و معالجہ کے لیے اقدامات کئے جائیں نئی تخلیق شدہ آسامیوں کی منصفانہ تقسیم اور میرٹ پر تقریروں سمیت 16 گریڈ سے اوپر ملازمین کے ہر دو سال بعد تبادلوں کو یقینی بنایا جائے _ گلگت بلتستان میں موجود تعلیمی سہولیات ناکافی ہے لہزا خواتین کے لیے الگ ینورسٹی کے قیام،میڈیکل کالج اور انجیرنگ ینورسٹی کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہو? امام جمعہ والجماعت مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت و قا?د ملت جعفریہ گلگت بلتستان علامہ سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آ?ینی حقوق دینے کی باتیں عرصہ دراز سے سن رہے ہیں لیکن عملی طور پر اب تک آ?ینی حقوق سے گلگت بلتستان کو محروم رکھا گیا ہیہم ایک پلیٹ فارم پر یکجا ھوئے بغیر آئینی حقوق حاصل نہیں کر سکتے لہزا ہمیں یکجا ہونے کی ضرورت ہے اور ایک آواز بن کر گلگت بلتستان اور تشیع کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہیصدر انجمن امامیہ بلتستان سید باقر الحسینی برسی کے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہو? کہا کہ شہید رضوی نیروشن خیال تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و وحدت قا?م کی جس کی وجہ سے شہید کو راستے سے ہٹایا گیا حکومت اور ریاست ہمارے شہدا کے قاتلوں کو پکڑنا ہی نہیں چاہتی شہید رضوی کی قاتل ریاست ہی ہے ریاست سے مکتب جعفریہ کو اچھے کی کو?ی امید نہیں ہے مکتب تشیع پاکستان پر مظالم ڈھا? جارہے ہیں تعزیتی اجتماع سے شیخ نی?ر عباس و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہو? کہا کہ ملت جعفریہ کے ساتھ وفاقی و صوبا?ی حکومتیں سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہیں شہید رضوی علاقے میں اتفاق و وحدت کے مشن پر کام کررہے تھے جو کہ اداروں کو ناگوار گزرا اور مختلف ہیلے بہانوں سے شہید کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور بالاخر شہید کو راستے سے ہی ہٹا دیا گیا ملک کے دیگر علاقوں اور شہروں میں جی بی سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہیں لیکن کو?ی پوچھنے والا نہیں ہیں لہزا ملک کے دیگر علاقوں میں زیر تعلیم طلبا اور مقیم عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں