23

مریخی سطح کے نیچے ’پوشیدہ جھیلوں‘ کا پورا نیٹ ورک ہے، تحقیق

وم، اٹلی: ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ مریخ کے قطب جنوبی (ساؤتھ پول) پر جھیلوں کا ایک پورا ’نیٹ ورک‘ موجود ہے جو وہاں پر سطح کے نیچے چھپا ہوا ہے۔

اس نیٹ ورک میں تین بڑی جھیلیں ہیں جن میں سب سے بڑی جھیل 30 کلومیٹر لمبی اور 20 کلومیٹر چوڑی ہے، جو سرد لیکن ’مائع پانی‘ والے متعدد تالابوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ مریخی سطح کے اندر، خاصی گہرائی میں موجود ہے۔

بتاتے چلیں کہ 2018 میں سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ مریخی سطح سے 1500 میٹر گہرائی میں، قطب جنوبی پر، پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جو تقریباً 20 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ دریافت بھی اسی تسلسل میں ہے جبکہ یہ تمام جھیلیں بھی 2018 میں دریافت ہونے والی جھیل سے قریب ہی واقع ہیں۔

دو سال پہلے ہونے والی دریافت کو ماہرین نے ایک اتفاق سمجھا تھا لیکن تازہ دریافت کے بعد وہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ شاید مریخ پر ہمارے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ پانی موجود ہے۔ البتہ وہ سارے کا سارا سطح کے نیچے پوشیدہ ہے۔

تحقیقی مجلّے ’’نیچر ایسٹرونومی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی یہ رپورٹ اٹلی، جرمنی اور آسٹریلیا کے ماہرین نے مشترکہ طور پر مرتب کی ہے جس میں یورپی خلائی مشن ’’مارس ایکسپریس‘‘ کے خاص ریڈار سے 2010 سے 2019 تک، دس سال کے دوران حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کا یہ مشن ایک مصنوعی سیارچے کے طور پر گزشتہ سترہ سال سے مریخ کے گرد چکر لگا رہا ہے اور اس سرخ سیارے کے اسرار ہم پر آشکار کر رہا ہے۔

مارس ایکسپریس کا یہ ریڈار، جسے مختصراً ’’مارسس‘‘ (MARSIS) کہا جاتا ہے، مریخ کی سطح سے ٹکرا کر پلٹنے والی ریڈار لہروں کے ذریعے وہاں زیرِ سطح موجود برف اور دوسرے آبی ذخائر کا پتا لگانے میں مدد دیتا ہے۔

ریموٹ سینسنگ میں ریڈار لہروں کے ذریعے سطح زمین کے نیچے پوشیدہ ساختوں اور آبی ذخائر وغیرہ کی تلاش برسوں سے کی جارہی ہے جس کی سائنس آج مستحکم اور قابلِ بھروسہ ہوچکی ہے۔ یہی طریقہ مریخ پر زیرِ سطح آبی ذخائر کی تلاش میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ مریخی سطح کے نیچے چھپی ہوئی ان جھیلوں میں مائع پانی کا درجہ منفی 68 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے، جس کا واحد مطلب یہی ہے کہ مریخ پر زیرِ سطح پانی حد سے زیادہ نمکین ہے کیونکہ نمک ہی کی وجہ سے پانی کا نقطہ انجماد (برف بننے کا درجہ حرارت) گر جاتا ہے۔ گویا پانی میں جتنا زیادہ نمک شامل ہوگا، وہ اسی قدر کم درجہ حرارت پر منجمد ہو کر برف بنے گا۔

واضح رہے کہ یہ اور اس جیسی دیگر دریافتیں مستقبل میں مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے منصوبوں میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ سرخ سیارے پر موجود حالات اور خدشات و خطرات کو مدنظر رکھنے کے بعد ہی ایسا کوئی منصوبے کامیاب ثابت ہوسکے گا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں