180

اومیکرون کے بعد کورونا کے مزید نئے نئے ویریئنٹ سامنے آئیں گے، اقوام متحدہ

لندن: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ ابھی مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی اور ہمیں اسی حساب سے معاشرے کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کی ٹیکنیکل ہیڈ ماریا وین کرخوف نے کہا ہے کہ وائرس اپنی شکل مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ کورونا کی بھی متعدد شکلیں سامنے آچکی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومیکرون آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مزید ویریئنٹس سامنے آئیں گے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں ماریا وین کرخوف نے مزید کہا کہ کورونا وائرس اب بھی شکلیں تبدیل کرکے سامنے آرہا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بدلنے اور خود کو صورت حال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کی ٹیکنیکل ہیڈ نے اومیکرون کے حوالے سے بتایا کہ کچھ لوگ اومیکرون کو زیادہ مہلک نہیں سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ اس ویریئنٹ سے اسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کے مقابلے میں کم ہلاکت خیز ہے۔

ماریا وین کرخوف نے بتایا کہ وبا سے بچنے کا واحد راستہ ویکسینیشن ہے اور تاحال دنیا بھر میں 3 ارب ایسے لوگ ہیں جنھیں اب تک کورونا ویکسین کا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگا ہے اس لیے یعنی دنیا بھر میں ویکسینیشن کو بڑھانا ہے۔ ماسک لازمی پہننا ہے اور سماجی فاصلے برقرار رکھنا چاہیئے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں